ایلن جونسٹن کے بدلے ابوقتادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الجزیرہ ٹی وی چینل کو بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کے اغوا کاروں کی جانب سے ایک ٹیپ موصول ہوئی ہے ۔ اس ٹیپ میں کچھ مطالبات کیے گئے ہیں اور کچھ تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں جن میں سے ایک بی بی سی کے ایلن جونسٹن کے شناختی کارڈ کی بھی ہے۔ یہ ٹیپ غزہ میں الجزیرہ کے دفتر میں جیش اسلام نامی ایک تنظیم کی طرف سے بھیجی گئی ہے اور اس میں قرانی آیات کی تلاوت کے علاوہ برطانوی حکومت سے ابوقتادہ سمیت برطانیہ کی جیلوں میں قید دیگر مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیپ کے جزیات کی تفتیش کر رہے ہیں۔بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار مائیک وولڈریج کا کہنا ہے کہ ٹیپ اصلی ہےگ انہوں نے بتایا کہ جیش اسلام (لشکر اسلام ) کوئی زیادہ مشہور تنظیم نہیں لیکن یہ ایک جانا پہچانا فلسطینی گروپ ہے۔ بی بی سی کے چوالیس سالہ رپورٹر ایلن جونسٹن کو غزہ میں بارہ مارچ کواپنے گھر جاتے ہوئے بندوق کی نوک پر اغواء کر لیا گیا تھا۔ اب تک اغواءکاروں کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی انہوں نے میڈیا سے کوئی رابطہ کیا تھا۔ اس سے قبل ایک فلسطینی گروپ التوحید الجہاد نامی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بی بی سی کے غزہ سے لاپتہ ہونے والے نامہ نگار ایلن جونسٹن کو ہلاک کر دیا ہے۔تاہم اس دعوی کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی۔ جبکہ فلسطینی حکومت نے کہا تھا کہ ان خفیہ ایجنسیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جونسٹن زندہ ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ٹیپ کے موصول ہونے کی خبر صحافی ایلن جانسٹن کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں ایک سینئیر برطانوی سفارت کار کی حماس کے رہنما وزیراعظم اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کے کئی گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔یروشلم میں برطانوی قونصل جنرل رچرڈ میکپیس نے کہا ہے کہ مسٹر جونسٹن کے اغواء کے بارے میں برطانیہ میں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔ ایلن جونسٹن کی آزادی کے لیے بڑے پیمانے پر اپیلیں کی گئی ہیں جن میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کی اپیل بھی شامل ہے۔ پیر کو اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمشنر لوئس آربر نے بھی اغوا کاروں سے درخواست کی تھی کہ ’اس بہت ہی نفیس شخص کو آزاد کر دیں‘۔ ایلن جونسٹن 1991 میں بی بی سی سے وابستہ ہوئے۔ سولہ سال کے دوران آٹھ سال انہوں نے بطور نامہ نگار کام کیا ہے جس میں کچھ وقت انہوں نے ازبکستان اور افغانستان میں بھی گزارا۔ گزشتہ تین سال سے غزہ جیسے پُر تشدد علاقے میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنے والے وہ واحد غیرملکی صحافی تھے۔ مارچ کے آخر میں غزہ میں ان کی ملازمت کی مدت ختم ہونے والی تھی۔ |
اسی بارے میں غزہ: مغویوں کے لیئے ڈیڈ لائن ختم 26 August, 2006 | آس پاس جونسٹن کیلیے بی بی سی کو تشویش15 April, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن ’زندہ‘ ہیں : محمود عباس20 April, 2007 | آس پاس فلسطین: صحافی کے لیے مظاہرے07 April, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||