BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 May, 2007, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایلن جونسٹن کے بدلے ابوقتادہ
ایلن جونسٹن
ایلن جونسٹن پچھلے آٹھ ہفتے سے غزہ سے لاپتہ ہیں
الجزیرہ ٹی وی چینل کو بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کے اغوا کاروں کی جانب سے ایک ٹیپ موصول ہوئی ہے ۔

اس ٹیپ میں کچھ مطالبات کیے گئے ہیں اور کچھ تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں جن میں سے ایک بی بی سی کے ایلن جونسٹن کے شناختی کارڈ کی بھی ہے۔

یہ ٹیپ غزہ میں الجزیرہ کے دفتر میں جیش اسلام نامی ایک تنظیم کی طرف سے بھیجی گئی ہے اور اس میں قرانی آیات کی تلاوت کے علاوہ برطانوی حکومت سے ابوقتادہ سمیت برطانیہ کی جیلوں میں قید دیگر مسلمانوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیپ کے جزیات کی تفتیش کر رہے ہیں۔بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار مائیک وولڈریج کا کہنا ہے کہ ٹیپ اصلی ہےگ انہوں نے بتایا کہ جیش اسلام (لشکر اسلام ) کوئی زیادہ مشہور تنظیم نہیں لیکن یہ ایک جانا پہچانا فلسطینی گروپ ہے۔

بی بی سی کے چوالیس سالہ رپورٹر ایلن جونسٹن کو غزہ میں بارہ مارچ کواپنے گھر جاتے ہوئے بندوق کی نوک پر اغواء کر لیا گیا تھا۔ اب تک اغواءکاروں کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا تھا اور نہ ہی انہوں نے میڈیا سے کوئی رابطہ کیا تھا۔

اس سے قبل ایک فلسطینی گروپ التوحید الجہاد نامی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بی بی سی کے غزہ سے لاپتہ ہونے والے نامہ نگار ایلن جونسٹن کو ہلاک کر دیا ہے۔تاہم اس دعوی کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی۔ جبکہ فلسطینی حکومت نے کہا تھا کہ ان خفیہ ایجنسیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جونسٹن زندہ ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ویڈیو میں دکھائے جانے والے ایلن جونسٹن کے شناختی کارڈ کا عکس

ٹیپ کے موصول ہونے کی خبر صحافی ایلن جانسٹن کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں ایک سینئیر برطانوی سفارت کار کی حماس کے رہنما وزیراعظم اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کے کئی گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔یروشلم میں برطانوی قونصل جنرل رچرڈ میکپیس نے کہا ہے کہ مسٹر جونسٹن کے اغواء کے بارے میں برطانیہ میں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔

ایلن جونسٹن کی آزادی کے لیے بڑے پیمانے پر اپیلیں کی گئی ہیں جن میں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کی اپیل بھی شامل ہے۔

پیر کو اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے کمشنر لوئس آربر نے بھی اغوا کاروں سے درخواست کی تھی کہ ’اس بہت ہی نفیس شخص کو آزاد کر دیں‘۔

ایلن جونسٹن 1991 میں بی بی سی سے وابستہ ہوئے۔ سولہ سال کے دوران آٹھ سال انہوں نے بطور نامہ نگار کام کیا ہے جس میں کچھ وقت انہوں نے ازبکستان اور افغانستان میں بھی گزارا۔

گزشتہ تین سال سے غزہ جیسے پُر تشدد علاقے میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرنے والے وہ واحد غیرملکی صحافی تھے۔ مارچ کے آخر میں غزہ میں ان کی ملازمت کی مدت ختم ہونے والی تھی۔

ایلن جونسٹنبی بی سی کی اپیل
ایلن جونسٹن کی بازیابی کے لیے ’ایکشن ڈے‘
حماس سے رابطہ
برطانیہ اور حماس کا پہلا رابطہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد