ہر بات میں رازداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایلن کے ساتھ میں نے تقریباً ایک سال کام کیا تھا۔ یہ انہیں مشرق وسطی میں بی بی سی کا نامہ نگار بنائے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ اس وقت وہ ورلڈ ٹوڈے فار ساؤتھ ایشیا میں کام کرتے تھے جو جنوب ایشیا کے لیے انگریزی زبان کا پروگرام ہے اور صبح سویرے نشر کیا جاتا ہے۔ بی بی سی میں صحافیوں کو دوسرے شعبوں میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، میں نے ورلڈ ٹوڈے کے لیے درخواست دی اور جب مجھے وہ جاب ملی تو مجھے ایلن جانسٹن کی ٹیم میں رکھا گیا۔ کیونکہ یہ ایک بڑا پروگرام ہے، لہذا اس میں کئی ٹیمیں کام کرتی ہیں۔ چار پانچ لوگوں کی ایک ٹیم ہوتی ہے جن کی ڈیوٹیز بھی ساتھ لگتی ہیں اور ہفتہ وار تعطیل بھی ساتھ ملتی ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ جتنا بھی وقت کام کرتے ہیں، ساتھ ہی رہتے ہیں۔ اس ایک سال میں مجھے ایلن کو قریب سے جاننے اور قریب سے سننے کا موقع ملا۔
سننے کا اس لیے کہ وہ ایک انتہائی نرم گفتار شخص ہیں، برابر میں بھی بیٹھے ہوں تو کان لگا کر سننا پڑتا ہے کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ شروع شروع میں تو مجھے بڑی دشواری ہوتی تھی، ایسا لگتا تھا کہ ایلن کوئی رازداری کی بات کر رہے ہیں، لیکن تھوڑا قریب جاکر سنو تو بات صرف اتنی نکلتی کہ میں کافی لینے جا رہا ہوں، ’ڈو یو نیڈ اینیتھنگ‘ یعنی کیا تمہیں اور میں ہمشیہ جواب میں یہ کہتا کہ ایلن اس میں اتنا چھپانے یا رازداری سے پوچھنے کی کیا بات ہے! وہ واحد مغربی صحافی ہیں جو غزہ میں مستقل طور پر تعینات تھے۔ انہیں تین سال کے لیے غزہ بھیجا گیا تھا، اور یہ مدت اب ختم ہی ہونے والی تھی کہ انہیں اغوا کر لیا گیا۔ فلسطین میں ان کی تعیناتی کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں۔ اور ہاں وہ بہت بزلہ سنج شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ’ سینس آف ٹائمنگ‘ کہہ لیجیے، میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نےکوئی فقرہ کسا ہو، اور ان کے پاس جواب نہ ہو۔ یہاں بش ہاؤس میں صرف اعلی ترین باسز کے پاس اپنے آفس ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ایک اور جاب کے لیے اپلائی کیا، ایلن کو بتایا تو کہنے لگے کہ میں اور کوئی مدد تو نہیں کر سکتا لیکن انٹرویو کیسےدینا ہے، اس بارے میں مشورہ ضرور دے سکتا ہوں۔
ہم ایک کاریڈار میں جاکر کھڑے ہوگئے۔ باقی بش ہاؤس کی طرح اس تنگ راہداری میں بھی جگہ جگہ دروازے لگے ہوئے ہیں۔ ہم بات کر ہی رہے تھے کہ ہم دونوں کے ساتھ کام کرنے والے کچھ لوگ ادھر سے گزرے۔ معذرت کرتےہوئے بولے:’ ساری، کین وی پاس تھرو یور آفس‘، معاف کیجیے گا، کیا ہم آپ کے آفس سے گزر سکتے ہیں؟ ایلن نے چھوٹتے ہی کہا، اس مرتبہ تو نکل جائیے، لیکن آئندہ ہمارے آفس میں داخل ہوں تو ’پلیز ڈونٹ فورگیٹ ٹو ناک،‘ یعنی دستک دینا مت بھولیے گا۔ ہاں، وہ پوسٹ مجھے نہیں ملی جس کےلیے ایلن مجھے مشورہ دے رہے تھے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہو سکتاہے میری ہی کچھ کمی رہی ہو! بہر حال، ایلن ایک بہت اچھے انسان اور بہت اچھے صحافی ہیں، اور ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ بخیر و عافیت جلدی ہی گھر لوٹ آئیں۔ |
اسی بارے میں جانسٹن کا اغواء: سو دن مکمل20 June, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن کے بدلے ابوقتادہ09 May, 2007 | آس پاس جونسٹن کی رہائی: ’ڈیل نہیں ہوئی‘17 June, 2007 | آس پاس جونسٹن کی رہائی پیر تک کی مہلت 18 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||