جونسٹن کی رہائی: ’ڈیل نہیں ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں بی بی سی کے نمائندے ایلن جونسٹن کے مبینہ اغوا کاروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کا صحافی کی رہائی کی لیے حماس سے کوئی معاہدہ طے پایا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے ایک ویڈیو میں ایک نقاب پوش بندوق بردار نے اپنا تعلق ’آرمی آف اسلام‘ سے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حماس سے ملاقاتوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم اس نے پھر بھی کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ صحافی کو ہلاک کر دیں گے۔ بی بی سی نے کہا ہے کہ وہ ویڈیو سے باخبر ہے اور پیش رفت کو نزدیک سے دیکھ رہا ہے۔ ایلن جونسٹن کو بارہ مارچ کو غزہ شہر سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ واپس گھر جا رہے تھے۔ اس کے بعد پہلی جون کو آرمی آف اسلام کے شدت پسندوں نے انٹرنیٹ پر بھیجی جانے والی ایک ویڈیو میں جونسٹن کو دکھایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔ سترہ جون کو دکھائی جانے والی ویڈیو میں نقاب پوش ترجمان نے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جن میں فلسطینی نژاد ابو قتادہ بھی شامل ہیں جو برطانیہ میں قید ہیں۔ نقاب پوش نے کہا: ’اگر وہ یہ مطالبات تسلیم نہیں کرتے تو پھر کوئی رہائی نہیں ہو گی، لیکن اگر حالات بگڑ گئے تو ہم اس صحافی کو قتل کر کے خدا کے اور قریب ہو جائیں گے۔‘ یہ ویڈیو حماس کے اس بیان کے چند گھنٹوں کے بعد دکھایا گیا جس میں حماس نے کہا تھا کہ جونسٹن کو جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ایلن جانسٹن: رہائی کی خبر پر نظر ہے17 June, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن کے بدلے ابوقتادہ09 May, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن کی سالگرہ17 May, 2007 | آس پاس ایلن جانسٹن کے لیے پھرمظاہرے07 April, 2007 | آس پاس فلسطین: صحافی کے لیے مظاہرے07 April, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||