BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 July, 2007, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایلن جانسٹن رہا، یروشلم پہنچ گئے
 ایلن جانسٹن
ایلن جانسٹن رہائی کے بعد حماس کے رہنما اسماعیل کے ساتھ سامنے آئے
بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن نے غزہ میں 114 دن کی حراست کے بعد رہائی ملنے پر کہا ہے کہ ’آزاد ہونا ناقابلِ تصور حد تک اچھا ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کو بدھ کی صبح رہا کرنے کے بعد غزہ میں حماس کے رہنماؤں کے حوالے کیا گیا۔

جس کے بعد وہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے ساتھ لوگوں کے سامنے آئے اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے حراست کے دوران کوئی اذیت نہیں پہنچائی گئی۔ انہیں 12 مارچ کو آرمی آف اسلام نامی گروپ نے اغوا کیا تھا۔

اب جانسٹن یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے میں ہیں اور ان کی بدھ کو وطن واپسی ممکن نہیں۔

ایلن جانسٹن نے رہائی کے بعد اپنے اغواء اور رہائی کی کیفیت کے لیے ’زندہ در گور‘ ہونے کے الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ آزاد ہونا ’زبردست‘ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تین ماہ تک سورج نہیں دیکھا اور ایک بار انہیں چوبیس گھنٹے تک مسلسل زنجیروں میں رکھا گیا۔

جانسٹن کے والد مسٹرگراہم نے ان کی رہائی پر کہا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ اپنے بیٹے کی رہائی پر انتہائی خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سو چوالیس دن کا عرصہ ایک ’ایسا ہولناک خواب تھا جو ایک سو چوالیس دن تک جاری رہا‘۔

رہائی کے لیے مظاہرہ
جانسٹن نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کی کوششیں کیں

اسماعیل ہنیہ نے جانسٹن کی رہائی پر کہا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حماس وطن عزیز کے اس حصے میں امن و امان کے قیام اور قانون کا بالا دستی کے نفاذ میں سنجیدہ ہے۔

رہائی کے بعد ایلن جانسٹن نے نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اغواء کے دوران کبھی کبھی صورتِ حال انتہائی خوفناک بھی ہو جاتی تھی اور ’اب معمول کی زندگی میں لوٹنا ناقابلِ یقین لگتا ہے‘۔

اطلاعات کے مطابق انہیں غزہ میں حماس کے حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حماس نے کہا تھا کہ وہ جانسٹن کی رہائی کے لیے کوشش کر رہی ہے اور اس حوالے سے اس نے دو جولائی کو جانسٹن کے مغوی گروپ کے ارکان کی گرفتاری کا بھی دعوٰی کیا تھا۔

رہائی کے بعد بی بی سی عربی سروس سے بات کرتے ہوئے ایلن جانسٹن کا کہنا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں اور فلسطینی عوام کی جانب سے حمایت پر ان کے شکرگزار ہیں۔

بی بی سی یروشلم کے بیورو ایڈیٹر سائمن وسلن کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی ایلن جانسٹن سے فون پر بات کی ہے جس میں انہوں نے اپنی قید کے دوران ساتھ دینے پر بی بی سی کے عملے کا شکریہ ادا کیا۔

جانسٹن کا اغوا اور ذمہ داری
 جانسٹن کو بارہ مارچ کو غزہ میں نقاب پوش مسلح افراد نے اس وقت اغواء کیا جب وہ اپنی کار میں گھر جا رہے تھے، بعد ازاں جیش الاسلام نامی تنظیم نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی

چوالیس سالہ جانسٹن کو بارہ مارچ کو غزہ میں نقاب پوش مسلح افراد نے اس وقت اغواء کر لیا تھا جب وہ اپنی کار میں گھر جا رہے تھے۔ بعد ازاں جیش الاسلام نامی تنظیم نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جانسٹن کے اغواء کی خبر کے منظر عام پر آتے ہی دنیا بھر میں سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی رہائی کے لیے اپیلیں شروع کردی تھیں۔

ایلن کے اغواء کے بعد ان کی تین ویڈیوز بھی جاری کی گئی تھیں جن میں سے چوبیس جون کو جاری ہونے والی آخری ویڈیو میں ایلن جانسٹن کو ایک بیلٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے جو جانسٹن کے بقول دھماکہ خیز مواد والی بیلٹ تھی۔

جانسٹن کی رہائی کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے بھی کیے گئے

جانسٹن نے ویڈیو میں کہا تھا کہ اگر اس جگہ داخل ہونے کی کسی قسم کی کوشش کی گئی جہاں انہیں رکھا گیا ہے تو انہیں اغوا کرنے والے بیلٹ کو دھماکے سے اڑا دیں گے۔

ایلن جانسٹن واحد غیرملکی صحافی ہیں جو مستقل طور پر غزہ میں ہی رہ رہے تھے۔ غزہ میں گزشتہ چند سال کے دوران کئی غیرملکی افراد کو اغواء کیا جا چکا ہے جنہیں کوئی نقصان پہنچائے بغیر رہا بھی کردیا گیا تاہم کسی بھی غیرملکی فرد کو اتنے طویل عرصے تک مغوی میں نہیں رکھا گیا تھا۔

اغوا کو سو دن
اغوا شدہ ایلن جانسٹن: بزلہ سنج، نرم گفتار
اسی بارے میں
ایلن جونسٹن کی سالگرہ
17 May, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد