ایلن جانسٹن رہا، یروشلم پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن نے غزہ میں 114 دن کی حراست کے بعد رہائی ملنے پر کہا ہے کہ ’آزاد ہونا ناقابلِ تصور حد تک اچھا ہے۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کو بدھ کی صبح رہا کرنے کے بعد غزہ میں حماس کے رہنماؤں کے حوالے کیا گیا۔ جس کے بعد وہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے ساتھ لوگوں کے سامنے آئے اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حراست کے دوران کوئی اذیت نہیں پہنچائی گئی۔ انہیں 12 مارچ کو آرمی آف اسلام نامی گروپ نے اغوا کیا تھا۔ اب جانسٹن یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے میں ہیں اور ان کی بدھ کو وطن واپسی ممکن نہیں۔ ایلن جانسٹن نے رہائی کے بعد اپنے اغواء اور رہائی کی کیفیت کے لیے ’زندہ در گور‘ ہونے کے الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ آزاد ہونا ’زبردست‘ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تین ماہ تک سورج نہیں دیکھا اور ایک بار انہیں چوبیس گھنٹے تک مسلسل زنجیروں میں رکھا گیا۔ جانسٹن کے والد مسٹرگراہم نے ان کی رہائی پر کہا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ اپنے بیٹے کی رہائی پر انتہائی خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سو چوالیس دن کا عرصہ ایک ’ایسا ہولناک خواب تھا جو ایک سو چوالیس دن تک جاری رہا‘۔
اسماعیل ہنیہ نے جانسٹن کی رہائی پر کہا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حماس وطن عزیز کے اس حصے میں امن و امان کے قیام اور قانون کا بالا دستی کے نفاذ میں سنجیدہ ہے۔ رہائی کے بعد ایلن جانسٹن نے نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اغواء کے دوران کبھی کبھی صورتِ حال انتہائی خوفناک بھی ہو جاتی تھی اور ’اب معمول کی زندگی میں لوٹنا ناقابلِ یقین لگتا ہے‘۔ اطلاعات کے مطابق انہیں غزہ میں حماس کے حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حماس نے کہا تھا کہ وہ جانسٹن کی رہائی کے لیے کوشش کر رہی ہے اور اس حوالے سے اس نے دو جولائی کو جانسٹن کے مغوی گروپ کے ارکان کی گرفتاری کا بھی دعوٰی کیا تھا۔ رہائی کے بعد بی بی سی عربی سروس سے بات کرتے ہوئے ایلن جانسٹن کا کہنا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں اور فلسطینی عوام کی جانب سے حمایت پر ان کے شکرگزار ہیں۔ بی بی سی یروشلم کے بیورو ایڈیٹر سائمن وسلن کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی ایلن جانسٹن سے فون پر بات کی ہے جس میں انہوں نے اپنی قید کے دوران ساتھ دینے پر بی بی سی کے عملے کا شکریہ ادا کیا۔
چوالیس سالہ جانسٹن کو بارہ مارچ کو غزہ میں نقاب پوش مسلح افراد نے اس وقت اغواء کر لیا تھا جب وہ اپنی کار میں گھر جا رہے تھے۔ بعد ازاں جیش الاسلام نامی تنظیم نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ جانسٹن کے اغواء کی خبر کے منظر عام پر آتے ہی دنیا بھر میں سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی رہائی کے لیے اپیلیں شروع کردی تھیں۔ ایلن کے اغواء کے بعد ان کی تین ویڈیوز بھی جاری کی گئی تھیں جن میں سے چوبیس جون کو جاری ہونے والی آخری ویڈیو میں ایلن جانسٹن کو ایک بیلٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے جو جانسٹن کے بقول دھماکہ خیز مواد والی بیلٹ تھی۔
جانسٹن نے ویڈیو میں کہا تھا کہ اگر اس جگہ داخل ہونے کی کسی قسم کی کوشش کی گئی جہاں انہیں رکھا گیا ہے تو انہیں اغوا کرنے والے بیلٹ کو دھماکے سے اڑا دیں گے۔ ایلن جانسٹن واحد غیرملکی صحافی ہیں جو مستقل طور پر غزہ میں ہی رہ رہے تھے۔ غزہ میں گزشتہ چند سال کے دوران کئی غیرملکی افراد کو اغواء کیا جا چکا ہے جنہیں کوئی نقصان پہنچائے بغیر رہا بھی کردیا گیا تاہم کسی بھی غیرملکی فرد کو اتنے طویل عرصے تک مغوی میں نہیں رکھا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں جانسٹن کی ’دھماکہ خیز مواد‘والی وڈیو24 June, 2007 | آس پاس جانسٹن کا اغواء: سو دن مکمل20 June, 2007 | آس پاس ایلن جانسٹن: رہائی کی خبر پر نظر ہے17 June, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن کی سالگرہ17 May, 2007 | آس پاس ایلن جونسٹن کے بدلے ابوقتادہ09 May, 2007 | آس پاس فلسطین: صحافی کے لیے مظاہرے07 April, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||