برازیل: لاکھوں کی گے پرائیڈ پریڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برازیل کے شہر ساؤ پالو میں لاکھوں کی تعداد میں گے اور لیسبین افراد نے گے پرائیڈ پریڈ میں حصہ لیا ہے۔ اس پریڈ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ پریڈ میں شامل افراد کی تعداد گزشتہ سال اسی طرح کی ایک تقریب میں شامل دو اعشاریہ پانچ ملین لوگوں سے بھی بڑھ گئی۔ دنیا میں اپنی طرح کی یہ واحد پریڈ کہلاتی ہے۔ پریڈ کے شرکاء مختلف لباس زیب تن کیے ہوئے جن میں جنسِ مخالف کا لباس پہنے والے افراد بھی شامل ہیں، موسیقی بجاتے ہوئے پریڈ میں شریک ہوئے۔ تاہم اس تقریب کے سرگرم حامی کہتے ہیں کہ پریڈ کا پیغام ایک مطالبہ ہے کہ دنیا میں امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ پریڈ کے صدر نیلسن میٹیاس پریرا کے مطابق: ’ہم برازیل میں آج بھی پائے جانے والی نسلی تعصب اور مردانگی پر اترانے جیسے مسائل کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں‘۔ پریڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ برازیل میں انیس سو اسی اور سنہ دو ہزار چھ کے درمیان لگ بھگ دو ہزار چھ سو اسی گے افراد کو قتل کیا گیا۔ مرنے والوں میں اکثریت کی ہلاکت کی وجہ ان کی سیکشوئیلٹی تھی۔ اس پریڈ کو پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر حمایت ملی ہے اور اس میں برازیل کے کھیلوں اور سیاحت کے وزیر کے علاوہ دیگر مقامی اہلکار بھی شامل ہوئے۔ انیس سو ستانوے میں جب شہر میں پہلی مرتبہ اس طرح کی پریڈ ہوئی تھی تو صرف دو ہزار افراد نے اس میں شرکت کی تھی۔ گے پرائیڈ کی پریڈ اسی شہر میں کچھ دن قبل سالانہ مسیحی تقریب کے بعد منعقد ہوئی ہے جس میں ایک وزیر نے خطاب کے دوران یہ کہا تھا کہ ہم جنسیت، شیطنت ہے۔ برازیل میں ستر کے قریب گے پریڈوں کا انعقاد ہوتا ہے اور بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اب صورتِ حال تبدیلیوں کی عکاسی کر رہی ہے۔ کچھ ریاستیں اب کھلے عام جنسی وجوہ پر امتیاز کی مخالفت کرتی ہیں۔ پھر بھی ہم جنس جوڑوں کی شادیاں صرف ایک ہی ریاست میں تسلیم کی جاتی ہیں جو برازیل کے جنوب میں واقع ہے۔ |
اسی بارے میں سعودی عرب‘ ہم جنسوں کی مبینہ شادی01 March, 2004 | آس پاس ہم جنس پرستوں کی شادیوں کا ’رش‘14 February, 2004 | آس پاس ہم جنس بنگلہ دیشیوں کو پناہ09 December, 2003 | آس پاس ایڈز: ہم جنس پرستوں کا جلوس01 December, 2003 | آس پاس پہلا ہم جنس پرست بشپ منتخب08.06.2003 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||