فلسطین کے حق میں لندن میں مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی لندن کی سڑکیں سنیچر کے روز چند گھنٹوں کے لیے ’فلسطین آزاد کرو‘ اور ’اسرائیلی قبضہ ختم کرو‘ کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ ہزاروں کے قریب مظاہرین جو آزادئ فلسطین کے لیے آواز اٹھانے کے لیے برطانیہ کے دوسرے شہروں سے جمع ہوئے تھے، لندن کی سڑکوں سے ہوتے ہوئے ٹرافالگر سکوئر پہنچے۔ ٹرافالگر سکوئر پر دن کے خاتمے تک تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ مشرق وسطیٰ کی چھ روزہ جنگ کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری تقریبات کا حصہ تھا۔ اس مظاہرے کا اہتمام تقریبا پچاس کے قریب تنظیموں کے ایک اتحاد نے کیا تھا۔ اینف یعنی ’بہت ہوچکا‘ نامی اس اتحاد میں حقوق انسانی اور مذہبی تنظیموں کے علاوہ ٹریڈ یونین اور پارلیمانی اراکین اور جارج گیلووے کی سیاسی جماعت ریسپیکٹ شامل تھیں۔ انفرادی طور پر تقریبا سبھی بڑی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی اراکین بھی اس مظاہرے میں شامل تھے۔
اس اتحاد کے مقاصد میں موجودہ فلسطینی انتظامیہ کا بائیکاٹ ختم کرانے، اس کی مالی امداد بحال کرنے اور اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ سنیچر کے روز مظاہرے کے آخر میں ٹرافالگر سکوئر پر جلسے کو خطاب کرنے والوں میں جاجر گیلووے اور فلسطینی وزیراطلاعات مصطفیٰ برغوتی کے علاوہ سابق اسرائیلی فوجی نیتن سِلورمین بھی شامل تھے جنہوں نے فلسطینی شہری علاقوں پر فوجی حملے کرنے سے انکار کردیا تھا اور اب فلسطینی حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیلی حملےمیں حماس کے دفاتر تباہ17 May, 2007 | آس پاس غزہ پر رات بھر اسرائیلی حملے20 May, 2007 | آس پاس حماس رہنما کےگھر حملہ، آٹھ ہلاک20 May, 2007 | آس پاس راکٹ حملے میں اسرائیلی ہلاک27 May, 2007 | آس پاس اسرائیل: سیاسی بے یقینی کا شکار29 May, 2007 | آس پاس فتح پارٹی کے رکنِ پارلیمان گرفتار30 May, 2007 | آس پاس ’اب مجھے جانا ہوگا‘05 June, 2007 | آس پاس اسرائیل پر ایرانی بیان سے ’مایوسی‘09 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||