راکٹ حملے میں اسرائیلی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی جانب سے اسرائیلی سرحدی شہر سديروت پر داغے گئے فلسطینی ساخت کے ایک راکٹ کے حملے میں ایک شہری ہلاک ہو گیا ہے۔ ایک سوئمنگ پول کے قریب گرنے والے ایک راکٹ کے کچھ ٹکڑے چھتیس سالہ شخص کی گردن پر لگے، جسے بعدازاں ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ ہلاک ہوگیا۔ شدت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے مسلح دھڑے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم ایہوداولمرت نے کہا ہے کہ حماس کے خلاف جلد ہی کریک ڈاؤن شروع کر دیا جائے گا۔ اتوار کو کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بات صاف اور واضح ہے کہ دہشت گردی میں ملوث کسی شخص کو معافی نہیں ملے گی۔
سنیچر کو غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر کیے جانے والے حملوں میں پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ دوسری طرف اسرائیل نے فلسطینی کابینہ میں حماس کے ایک اور رکن وصفی قبھا کو گرفتار کر لیا ہے۔ جمعرات کو وزیرتعلیم نصیر الشائر اور تقریباً تیس دیگر افسران کو حراست میں لیا گیا تھا۔ غزہ پر دس روز سے جاری اسرائیلی بمباری میں چالیس سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان حملوں کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملے دراصل اسرائیلی آبادیوں پر مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کو روکنے کی کوشش ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی سرحدی علاقوں خاص طور پر سديروت پر ہونے والے راکٹ حملوں میں ایک فلسطینی ہلاک جبکہ سولہ دوسرے زخمی ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پچھلے بارہ دن کے دوران غزہ سے کوئی 230 راکٹ داغے گئے ہیں۔ دریں اثناء، حماس نے خبردار کیا ہے کہ اس کے مسلح دھڑے یا تنظیم کے کسی سیاسی رہنما کے خلاف اسرائیل کے کسی بھی اقدام سے مغوی اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کا امکان اور معدوم ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ گیلاد شالت کی جون 2006 میں گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں غزہ پر رات بھر اسرائیلی حملے20 May, 2007 | آس پاس غزہ پر اسرائیل کا راکٹ حملہ07 April, 2007 | آس پاس غزہ میں اسرائیل کا ’غائبانہ ہاتھ‘18 January, 2007 | آس پاس غزہ پراسرائیلی حملے، تصادم جاری 19 May, 2007 | آس پاس راکٹ حملے بند کر دیں: محمود عباس24 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||