BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی حملےمیں حماس کے دفاتر تباہ
حماس کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت تباہ ہو گئی (فائل فوٹو)
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے غزہ شہر پر راکٹوں سے تین حملے کیے ہیں جن میں کم سے کم ایک شخص ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ غزہ شہر پر تازہ ترین حملے کا نشانہ شدت پسند گروپ حماس کے ایک رکن کی کار تھی۔ اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں حماس کے سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کو میزائل کا نشانہ بنایا جس میں کہا جاتا ہے کہ ہیڈ کوارٹر کی عمارت تباہ ہوگئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ عمارت حماس کے سرکردہ رہنماؤں کے استعمال میں ہوتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد ہر طرف چیخ و پکار تھی اور مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی جبکہ باقی اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔

حماس کے عسکری بازو نے دھمکی دی ہے کہ حملے کا جواب دیا جائے گا۔

الفتح اور حماس کے درمیان پرتشدد کارروائیاں جمعرات کو پانچویں روز بھی جاری رہیں

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فضائی حملے جنوبی اسرائیل پر حماس کے راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

اس دوران غزہ میں الفتح اور حماس کے دھڑوں میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں جمعرات کو پانچویں روز بھی جاری رہیں۔ ان کارروائیوں کے باعث کم و بیش پینتالیس لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

الفتح اور حماس کے دھڑوں میں تشدد کے ساتھ ساتھ پھر معاہدے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن جھڑپوں کی وجہ سے بدھ کو تیس نامہ نگاروں سمیت بہت سے افراد کو کئی گھنٹوں تک گھروں کے اندر قید رہنا پڑا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حماس اور فتح کے حامیوں کے درمیان نزع اس بات پر شروع ہوئی کہ سکیورٹی افواج کا کنٹرول کس کے پاس ہے لیکن اب یہ جھڑپیں نیا رنگ اختیار کر چکی ہیں۔

حماس کی حکومت میں وزیرِ داخلہ جو آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے، تشدد کے واقعات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔

نامہ نگار کہتے ہیں راکٹ داغنے کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ کسی طرح فلسطینیوں کی داخلی نزع میں اسرائیل کو گھسیٹا جا ئے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ ضبط و تحمل کی پالیسی اس طرح جاری نہیں رہ سکتی اور راکٹ داغے جانے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

بدھ کی صبح غزہ کے جنوب میں حماس کے ایک تربیتی کیمپ پر اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ بعد میں غزہ کے شمال میں ایک حملے میں حماس کا ایک شدت پسند ہلاک اور دو فلسطینی زخمی ہو گئے تھے۔

بدھ کو دن بھر غزہ میں فتح تنظیم جو صدر محمود عباس کی وفادار ہے اور حماس جس وزیرِ اعظم اسماعیل ہانیہ کی طرفدار ہے، آپس میں فائرنگ کا تبادلہ کرتے رہے۔

مسلح افراد نے صدر محمود عباس کی رہائش گاہ کے قریب کے علاقے کو محاصرے میں بھی لے لیا تھا۔

فتح اور حماس کے حمایتیوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں اس عمارت کا عملہ جس میں غزہ کے اکثر نشریاتی ادارے کام کرتے ہیں، کئی گھنٹوں تک ایک کمرے میں بند رہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد