علم کی لگن میں خطرے سے بے نیاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذرا تصور کیجیئے کہ لندن کی کسی یونیورسٹی میں دوہرا خودکش حملہ ہو جس کے نتیجے میں نوے طلبہ اور اساتذہ ہلاک اور ایک سو چالیس زخمی ہوجائیں۔ اس برس جنوری میں بغداد کی معروف جامعہ مستنصریہ میں یہ ہی کچھ ہوا۔ یہ واقعہ اگر برطانیہ میں ہوتا تو غم و غصہ اور سوگ کا عالم ہفتوں بلکہ شاید برسوں پر محیط ہوتا۔ جائے وقوعہ کے دورے کے لیے وزراء کی قطار لگ جاتی، مرنے والوں کی یاد میں تقاریب کا انعقاد ہوتا، معاوضے دیئے جاتے، تحقیقات ہوتیں، اور وعدے کیے جاتے کہ ایسا کوئی دوسرا واقعہ پھر کبھی پیش نہیں آئے گا۔
مگر عراق میں ان سانحوں کو جلد ہی بھلا دیا جاتا ہے کیونکہ ہر روز ایک نیا سانحہ پچھلے کی یاد کو محو کر دیتا ہے۔ مستنصریہ میں تعزیت کے لیے کوئی وزیر نہیں گیا۔ کیمپس، صدر سٹی سے زیادہ دور نہیں اور راستہ پرخطر ہے۔ لیکن روزانہ ہزاروں عراقی طلبہ یہ خطرہ مول لےکر یونیورسٹی پہنچ جاتے ہیں۔ جنوری میں ہونے والے دوہرے خودکش حملے کے تقریباً چار ماہ بعد اب امتحان سر پر ہیں، مگر طلبہ کے ذہنوں پر اس خوں آشام دن کے سائے اب بھی گہرے ہیں۔ ایک طالبہ نور نے مجھے بتایا: ’ہر طرف خون اور لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ بڑا دردناک منظر تھا۔‘ پہلے یونیورسٹی کے صدر دروازے پر خودکش کار بم حملہ کیا گیا اور جب طلبہ بھاگنے لگے تو ایک خودکش بم حملہ آور نے ان کے درمیان گھس کو خود اڑا لیا۔ اس حملے کی ذمہ داری تو کسی نے قبول نہیں کی مگر خیال ہے کہ یہ حملہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سنی شدت پسندوں نے کیا تھا۔
جس مقام پر یہ حملے ہوئے تھے وہاں اب مزید حملوں سے بچاؤ کے لیے اونچی دیوار بنا دی گئی ہے ۔۔۔ بالکل ویسی ہی جیسی شہر کے دوسرے حصوں میں بنائی گئی ہیں۔ جامعہ کے نائب صدر ڈاکٹر فضیح الامری کا کہنا ہے کہ شدت پسند ایک منصوبے کے تحت اہل علم کو ہلاک کر رہے ہیں۔ پچھلے چار برسوں کے دوران تین سو سے زیادہ پروفیسروں، اساتذہ اور تدریسی عملے کے دوسرے ارکان کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ جبکہ اس شعبے سے وابستہ سینکڑوں افراد ملک چھوڑ گئے ہیں۔ بہت سے ملک میں رہتے ہوئے بھی اتنے خوفزدہ ہیں کہ تدریس کے لیے جامعہ آنے سے قاصر ہیں۔ ان نامساعد حالات کے باوجود جب ہم یونیورسٹی پہنچے تو وہاں خاصی سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ طلبہ کلاس ختم ہونے کے بعد راہدریوں میں خوش گپیوں میں مصروف تھے، فوٹوگرافر تصویریں اتار رہے تھے۔ نور انگریزی ادب کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں خدا پر بھروسہ ہے اور وہ اپنا مستقبل سنوارنے کی کوشش میں ہیں۔ |
اسی بارے میں عراق: بم دھماکے میں 135 ہلاکتیں03 February, 2007 | آس پاس عراق میں 300 سے زائد ہلاک29 January, 2007 | آس پاس عراق میں 250 مزاحمتی ہلاک28 January, 2007 | آس پاس بغداد: گرین زون پر حملہ، 25 ہلاک25 January, 2007 | آس پاس مقتدی الصدرکے چھ سو حامی گرفتار23 January, 2007 | آس پاس عراق: بم دھماکوں میں 130 ہلاک22 January, 2007 | آس پاس عراق: ایک سال میں 34 ہزار ہلاک16 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||