پرنس کی علیحدگی پر قیاس آرائیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے پرنس ولیم اور ان کی گرل فرینڈ کیٹ میڈلٹن کے اپنی چار سالہ رفاقت کو ختم کیے جانے کے فیصلے کی وجوہات کے بارے میں عوامی سطح پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ اتوار کے اخبارات میں اس تعلق کے ٹوٹنے کی کئی ممکنہ وجوہات بیان کی گئی ہیں جیسے کہ پرنس ولیم کا فوجی کریئر، ان کا اندازِ زندگی اور شاہی خاندان کی جانب سے مداخلت بھی اس تعلق کے ختم ہونے کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نکولس وچل کا کہنا ہے کہ پرنس ولیم پر شادی کے حوالےسے کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہوگا۔ کلیئرنس ہاؤس کی جانب سے ابھی تک اس علیحدگی کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اگرچہ اتوار کو شائع ہونے والے اخبارات میں اس جوڑے کے درمیان علیحدگی کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں مگر ایک بات جو مشترک ہے وہ یہ کہ اخبارات نے دونوں کے درمیان علیحدگی کے اس فیصلے کو نمایاں جگہ دی ہے۔ پرنس ولیم اور کیٹ میڈلٹن کی پہلی ملاقات 2001 میں سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔
جوڑے کے درمیان تعلقات ختم کیے جانے کے فیصلے کے بارے میں جو چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں ان میں کیٹ کا کریئر اور ان کے اپنے خاندان کے بارے میں خیالات بھی ایک وجہ بیان کیے جا رہے ہیں۔ یہ بھی قیاس آرائیاں ہیں کہ پرنس کا فوج میں جانا اور مس میڈلٹن کا لندن میں رہتے ہوئے ملازمت اختیار کرنا بھی ان دونوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ اور بالآخر اس کے اختتام کی ایک وجہ بنا ہو۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان نے چوبیس سالہ شہزادے کو اس تعلق کے حوالے سے اپنے رحجانات اور خواہشات کی وضاحت کو کہا ہوگا۔ سابق رائل پریس سیکرٹری ڈکی آربیٹر کا کہنا تھا کہ کیٹ میڈلٹن کو آگے چل کر کافی مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشکل اس لحاظ سے کہ اب انہیں کیمروں کی نظر سے دور ذرائع ابلاغ سے ایک نیا رشتہ بنانا ہوگا۔ اب کیمرے ان پر اس طرح سے نظر رکھیں گے کہ وہ کیا کررہی ہیں اور وہ کس طرح سے اس ساری صورت حال کا سامنا کر پاتی ہیں۔ دوسری طرف پرنس ولیم بھی اب اپنے فوجی کریئر پر نسبتاً سکون سے دھیان دے سکیں گے۔ پرنس ولیم ہاؤس ہولڈ کاویلری اور رائلز میں بطور ایک افسر کے خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ کیٹ میڈلٹن ایک فیشن کمپنی کے لیے کام کرتی ہیں۔ کیٹ میڈلٹن، گزشتہ سال دسمبر میں شہزادے کی سینڈہرسٹ ملٹری اکیڈیمی میں منعقد ہونے والی گریجوئشن کی تقریب میں شرکت کر چکی ہیں۔ پرنس سے چار سالہ تعلق کے دوران یہ ان کی پہلی ہائی پروفائل تقریب تھی جس میں ملکہ کے علاوہ شاہی خاندان کے کئی معزز اراکین نے بھی شرکت کی تھی۔ |
اسی بارے میں ڈیانا: فوٹوگرافروں پرمقدمہ21.11.2002 | صفحۂ اول ڈیانا:موت کی تفتیش30.08.2003 | صفحۂ اول شہزادی ڈیانا کی یاد میں06 July, 2004 | صفحۂ اول شہزادے وِلیم کی ’تیزیاں‘16.06.2003 | صفحۂ اول شہزادہ چارلس ایران پہنچ گئے09 February, 2004 | آس پاس شہزادہ چارلس بھی ویزہ نہ لگوا سکے01 September, 2004 | آس پاس شہزادہ چارلس کی دوسری شادی09 April, 2005 | آس پاس چارلس کی شادی پوپ کیلیےملتوی04 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||