’عراق: کچھ مثبت حاصل نہیں ہوا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاپائے روم بینیڈکٹ نےسینٹ پیٹر سکوائر میں ایسٹر کے پیغام میں کہا کہ ’عراق کی جنگ سے کچھ مثبت حاصل نہیں ہوا‘۔ ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والے خطاب میں انہوں نے کہا ’مسلسل قتل عام سے عراق بکھرتا جا رہا ہے‘۔ پوپ بینیڈکٹ نے ایشیا اور افریقہ کے کچھ حصوں میں جاری تشدد اور انسانی تکالیف پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ہزاروں لاکھوں زائرین کے سکوائر میں جمع ہونے سے قبل پوپ بینیڈکٹ نے ایسٹر کی دعائیہ تقریب کی قیادت کی۔ عیسائی کیلنڈر میں ایسٹر مقدس ترین دن ہے۔ سکوائر میں بالکنی سے خطاب کرتے ہوئے پوپ بینیڈکٹ نے دنیا بھر میں انسانوں کو درپیش مصائب پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں جاری قتل عام سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا اور شہری وہاں سے بھاگ رہے ہیں۔ پوپ کے اس خطاب سے چند ہی گھنٹے قبل بغداد کے جنوب میں محمودیہ علاقے میں ایک دھماکے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم پوپ نے مشرق وسطی میں اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان ’مذاکرات‘ کو ’امید کی کرن‘ کہا۔ پوپ بینیڈکٹ نے دہشت گردی اور تشدد کی مختلف شکلوں کو جائز قرار دینے کے لیے مذہب کے استعمال کی مذمت کی۔ | اسی بارے میں روم میں زائرین کا ایسٹر اجتماع07 April, 2007 | آس پاس ’پوپ کے الفاظ صلیبی جنگ ‘18 September, 2006 | آس پاس پاپائے روم بینیڈکٹ مسجد میں01 December, 2006 | آس پاس ترکی: مظاہروں کے باوجود پوپ کا دورہ28 November, 2006 | آس پاس معذرت غُصّہ ختم کرنے میں ناکام18 September, 2006 | آس پاس مکالمہ جاری رہنا چاہیئے: پوپ25 September, 2006 | آس پاس پوپ کی مسلمان سفیروں کو دعوت22 September, 2006 | آس پاس میرے الفاظ کو غلط سمجھا گیا: پوپ بینیڈکٹ20 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||