BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 September, 2006, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکالمہ جاری رہنا چاہیئے: پوپ
پوپ
پوپ نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو تشدد چھوڑ دیناچاہیئے
پوپ بینیڈکٹ نے کلیسا اور مسلم دنیا کے درمیان اُن کے حالیہ بیان سے پیدا ہونے والےبحران کو دور کرنے کے لیئے اسلامی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی۔

بینڈیکٹ نے مسلمانوں کے عقیدے کے تئیں اپنے دلی احترام کا اظہار کیا اوربین المذاہب ڈائلاگ کواہم قرار دیا۔ پوپ نے کہا کہ مسلمانوں ور عیسائیوں کو تشددکی کسی بھی شکل کو چھوڑ دینا چاہیئے اور مذہبی آزادی کا احترام کرنا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ’ پاپائے روم کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد سے میں نے کئی موقع پر تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان دوستی کا پل قائم کرنےکی خواہش ظاہر کی ہے۔ ایسے قدم مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین ہونے والے مکالمے کو مزید تقویئت پہنچائں گے‘۔

پوپ نے اپنے مختصر خطاب میں پوپ جان پال دوئم کے حوالے سے کہا کہ آج تمام مزاہب کے درمیان باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر عراق کے سفیر البرٹ یالدے نے کہا کہ جوغلط فہمیاں پہلے ہوئی ہیں انہیں اب دور ہو جانا چاہیئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیر کے دن کی گفتگو دونوں مذاہب کے درمیان خیر سگالی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

اس سے پہلے پوپ نےاپنے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسلام کی تہے دل سے عزت کرتے ہیں۔

بی بی سی کے روم میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پوپ کی طرف سے سفیروں سے ملاقات کرنا ایک غیر معمولی قدم ہے اور مسلم دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ وہ اسلامی دنیا سے تعلقات بہتر کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں۔

مسلمان رہنما پوپ بینیڈکٹ سے غیر مشروط طور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

اس میٹینگ میں دنیا کے اکیس ممالک کے سفیروں کے علاوہ عرب لیگ کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ یہ میٹنگ کوئی آدھے گھنٹے تک چلی۔

پوپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ’ بین المذاہب اور بین التہذیبی ڈائلاگ کافی اہم ہیں اور اسے جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ بہت حد تک ہمارے مستقبل کا انحصار بھی آپسی ڈائلاگ پر ہے‘۔

اس موقع پر اٹلی کی ایک اسلامی تنظیم کے نا ئب صدر یحییٰ پالاویکینی نے کہا کہ’ مجھے امید ہے کہ اس ملاقات کومسلم ، عیسائی اور یہودی مذاہب کے اسکالروں کے درمیان ڈائلاگ قائم کرنے کی شروعات کے طور پردیکھا جائے گا۔‘

اس سے پہلے یورپی کمیشن کے صدر مینول دراؤ بروسو نے پوپ کے بیان کا دفاع کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسئلہ پوپ کے بیان کا نہیں بلکہ اس پر ہونے والے ردعمل کا ہے۔‘

اسی بارے میں
’پوپ کا بیان ناکافی ہے‘
16 September, 2006 | آس پاس
کیاپوپ غلطی کرسکتے ہیں؟
19 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد