پوپ کی مسلمان سفیروں کو دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوپ بینیڈ کٹ نے اپنی تقریر کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ پر بات چیت کے لیے مسلمان ممالک کے سفیروں اور اٹلی میں مسلمانوں کے نمائندوں کو پیر کے روز مدعو کیا ہے۔ یہ ملاقات روم کے قریب پوپ کی موسم گرما کی رہائش گاہ پر منعقد ہو گی اور اس کا مقصد پوپ بینیڈکٹ کی حالیہ تقریر کے بعد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کے بارے میں یہ وضاحت کرنا ہے کہ جرمنی میں کی گئی ان کی تقریر کا غلط مطلب لیا گیا تھا۔ پاپائے روم نے اس تقریر میں کہا تھا کہ پیغمبر اسلام دنیا میں تشدد کے علاوہ کچھ نہیں لائے تھے۔ ان کی اس بات پر دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں سخت احتجاج جاری ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ پاپائے روم غیر مشروط معافی مانگیں۔ تاحال رومن کیتھولک کلیسا کے سربراہ تین بار افسوس ظاہر کرتے ہوئے یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ وہ اسلام کا انتہائی احترام کرتے ہیں۔ ویٹیکن میں ایران کے نائب سفیر احمد فہیمہ نے پوپ کی دعوت کو ایک مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اس بات چیت سے مسلمان دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے۔‘ اتوار کے روز پوپ نے کہا تھا کہ جرمنی میں ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ان کی تقریر کے چند اقتباسات کی وجہ سے بعض ممالک میں ہونے والے رد عمل پر انہیں سخت افسوس ہوا ہے۔ جبکہ بدھ کو ویٹیکن کے زائرین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کی بات کو غلط طور پر سمجھا گیا ہے۔ ان کے مطابق پیغمبر اسلام کے متعلق انہوں نے جس بات کا ذکر کیا تھا وہ ان کا ذاتی موقف نہیں بلکہ وہ چودھویں صدی کے بادشاہ بائیزنٹائن مینوئل II سے منسوب تھی۔ پوپ نے کہا ہے کہ ان کا اصل مقصد اس بات کی وضاحت کرنا تھا کہ مذہب اور تشدد ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے جبکہ مذہب اور منطق چل سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن17 September, 2006 | آس پاس کیاپوپ غلطی کرسکتے ہیں؟19 September, 2006 | آس پاس معذرت غُصّہ ختم کرنے میں ناکام18 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||