BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 March, 2007, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی غلامی: جاپان کامؤقف، کوریا برہم
جنوبی کوریا کی ناراضگی
جنگ عظیم دوم کے دوران تقریباًدو لاکھ خواتین کو جنسی غلامی پر مجبور کیا گیا تھا
جنوبی کوریا نے جاپانی وزیراعظم کےاس بیان پر شدید تنقید کی ہے جس میں انہوں نےدوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی فوجیوں کے ہاتھوں خواتین کو جبری جنسی غلامی پر مجبور کرانے کے واقعات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

وزیراعظم شنزو ایب نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ’اس قسم کے کوئی شواہد ثابت نہیں ملے ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ اس سلسلے میں زبردستی سے کام لیا گیا تھا‘۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ سانگ من سون نے کہا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کا بیان ’ مددگار‘ نہیں اور انہیں سچ کا ضرور سامنا کرنا ہوگا۔ سانگ من سون نے کہا کہ جاپانی قیادت کا بیان دونوں ملکوں کے مابین بہتر تعلقات کے حوالے سے ہونے والی کوششوں میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

مؤرخین کا خیال ہے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران کم از کم دو لاکھ خواتین کو مجبور کیا گیا کہ وہ جاپانی فوج کے قحبہ خانوں میں خدمات انجام دیں۔

جاپانی کابینہ کے ترجمان نے شنزو ایب کے بیان کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم 1993 میں قحبہ خانوں سے متعلق مانگی گئی معافی پر اب بھی قائم ہیں۔

امریکی کانگریس ایک قرارداد پر غور کر رہی ہے جس میں ٹوکیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’ قحبہ خانوں میں رکھی گئی خواتین سے ہونے والی زبردستی کو رسمی طور قبول کر تے ہوئے معافی مانگے اور اپنی تاریخی ذمہ داری کا اعتراف کرے‘۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان نےقراداد کے مسودے پر گزشتہ ہفتے بحث کی تھی جس پر جاپانی وزیر خارجہ نے فوری طور پر تنقید کر تے ہوئے کہا تھا کہ’ یہ مسودہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے‘۔

امریکی کانگرس کے سامنے پیش کیے گیے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نظر ثانی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدام کو رد کر دیا جائے۔اس قراداد پر عملدرآمد لازمی نہیں ہے۔

بعض جاپانی قدامت پسند سیاست دانوں نے جنگ کے دوران اپنے ملک کی جانب سے بڑے پیمانے پر مظالم پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے کچھ کا مطالبہ ہے کہ حکومت انیس سو ترانوے میں اپنی مانگی گئی اس معافی سے دستبردار ہو جائے کہ شاہی فوج نے جنگ کے دوران اپنے سپاہیوں کے لیے قحبہ خانےقائم کیے تھے۔

ان قحبہ خانوں میں رکھی جانے والی خواتین نےجاپانی فوجیوں کے ہاتھوں ان کے ساتھ ہونے والی جنسی اور جسمانی تشدد سے متعلق ثبوت ایک امریکی عدالت کے سامنے پیش کیے تھے۔

جنسی تشدد کے شکار بعض خواتین جن میں سے زیادہ تر کا تعلق کوریا اور چین سے ہے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتوں کے بدلے جاپانی حکومت سے معاوضے کا ابھی تک مطالبہ کر رہی ہیں۔ جاپان نے 1995 میں معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ایک فنڈ قائم کیا تھا تاہم اس کا دارومدار حکومتی رقوم کی بجائے پرائیویٹ عطیات پر ہے۔

اسی بارے میں
جنسی سیاحت کا بازار
29 October, 2003 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد