امریکی فوج میں جنسی تشدد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دو ہزار ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں جن میں امریکی فوجیوں نے یا تو جنسی تشدد کیا ہے یا ان پر ہوا ہے۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع نے سن 2003 کے مقابلے میں فوج میں جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے رحجان کی رپورٹ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جو رچرڈ نے کہا یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی فوج کے مرد اور خواتین میں اس طرح کے جنسی تشدد کے واقعات کو رپورٹ کرانے کا شعور بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار میں مبینہ حملہ آوور اور جنسی تشدد کا شکار ہونے والے دونوں کا تعلق ہی فوج سے تھا۔ تاہم نئے اعداد و شمار میں وہ واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں عام شہری بھی فوج کے ساتھ شامل تھے۔ گزشتہ سال امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے حکم جاری کیا تھا کہ فوج میں جنسی تشدد کے الزامات کی تفتیش کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔ واضح رہے کہ اس وقت کئی فوجی خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور امریکی ایئر فورس اکیڈمی میں ایک خاتون کا ریپ بھی ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||