لِنڈی کا اقبالِ جرم مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی فوجی عدالت کے جج نے خاتون فوجی لنڈی انگلینڈ کاابوغریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کا اقبالِ جرم مسترد کردیا ہے۔ فوجی عدالت کے جج کرنل جیمز پوہل نے لنڈی انگلینڈ کے خلاف چلائے جانے والے مقدمے کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا اور ان کی طرف سے دیا جانے والے اقبالی بیان مسترد کر دیا۔ کرنل جیمز پوہل کے مطابق ان کی طرف سے کیا جانے والے اقبال جرم اس مفروضے پر کیا گیا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہی ہیں غلط ہے۔ تاہم دیگر شواہد اس بات کی تردید کرتے ہیں۔ پرائیویٹ لنڈی انگلینڈ کا مقدمہ اب دوبارہ شنوائی کے لیے فوجی حکام کو بھیج دیا جائے گا۔ اس سے پہلے موصول ہونے والی اطلاعات میں کیا گیا تھا کہ امریکی خاتون فوجی پرائیویٹ لِنڈی انگلینڈ نے عراق کے ابوغریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کا اقبالِ جرم کر لیا ہے۔ بائیس سالہ پرائیویٹ لِنڈی انگلینڈ نے فورٹ ہڈ، ٹیکساس میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران اقبالِ جرم کیا تھا۔ پرائیویٹ لِنڈی انگلینڈ عراق کی بدنامِ زمانہ ابوغریب جیل میں قیدیوں سے کی جانے والی بدسلوکیوں کے سکینڈل کی علامت بن گئی تھیں۔ ان کے خلاف الزمات کے تحت ان کو 16 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اُن کی طرف سے کیے جانے والے اقبال جرم کا بنا کر سازش، فرض سے کوتاہی اور قیدیوں سے بدسلوکی اور نازیبا حرکات کے ارتکاب کا اقبالِ جرم کرنے کے بعد ان کی سزا کم ہو کر 30 ماہ رہ سکتی تھی۔ وہ نو فوجیوں میں سے ایک تھیں جنہیں 2003 میں عراقی قیدیوں کے ساتھ کی گئی بدسلوکی جیسے الزامات کا سامنا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||