برطانوی فوج میں مسلمانوں کی حالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی مسلح افواج میں مسلمانوں کی تعداد برائے نام ہے اور فوج میں ان کی نمائندگی 0.2 فیصد سے بھی کم ہے۔ لیکن یہ دکھانے کے لیے کہ افغانستان اور عراق میں جاری جنگ اسلام کے خلاف نہیں ہے ان کی موجودگی بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ بدھ کو مبینہ طور پر ایک برطانوی مسلم فوجی کو اغوا کرکے قتل کرنے کا واقعہ بھی شاید مسلمانوں کو فوج میں شامل ہونے کے لیے حوصلہ بخش نہ ہو۔ گزشتہ برس جولائی میں جب پاکستانی نژاد برطانوی مسلم فوجی جبران ہاشمی افغانستان میں ہلاک ہوئے تھے تو اس بات پر بحث چھڑ ی تھی کہ آخر مسلمانوں کو فوج میں آنے پر کیا چيز آمادہ کرتی ہے۔ ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ ہاشمی فوج میں اس خیال سے شامل ہوئے تھے کہ ان کا اسلامی پس منظر فوج میں بہتر سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں مدد گار ہوگا۔ جبران ہاشمی کے بھائی ذیشان نے، جو خود بھی افغانستان میں برطانوی فوج کی طرف سے خدمات انجام دے چکے ہیں، اس بات سے انکار کیا ہے کہ مبینہ اغوا کی سازش ان کے خلاف تھی۔ ذیشان کا کہنا ہے کہ برطانوی شہری کی حیثیت سے ملک کے لیے فرائص ادا کرنے کے علاوہ ان کا اور ان کے بھائی کی فوج میں شمولیت کی ایک وجہ موجودہ عالمی سیاست اور مشرق و مغرب کے درمیان جاری تصادم بھی تھا۔’چونکہ ہم برطانوی شہری ہیں اور مسلمان بھی اس لیے ہمیں لگا کہ اس میں شریک ہونے سے ہمیں فائدہ پہنچےگا اور شاید اس سے باہمی سمجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہو۔‘
ایک لاکھ مسلح برطانوی افواج میں صرف دو سو اڑتالیس مسلمان ہیں اور ذیشان ان میں سے ایک ہیں۔ برمنگھم آرمی کیریئر میں رابطہ عامہ کے افسر میجر سام پنکنی نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ مبینہ مسلم فوجی کو اغوا کرنے کی سازش کا فوج میں آئندہ بھرتی پر کیا اثر ہوگا تاہم انہوں بتایا کہ گزشتہ برس بڑی تعداد میں لوگ فوج میں شامل ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان فوج میں اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔’ ہماری کوشش ہو تی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مذہبی لوگوں کو فوج میں شامل کیا جا سکے یہاں تک اب تو حلال کھانے کی اشیاء بھی فراہم کی جاتی ہیں۔‘ برطانوی فوج میں سب سے اونچے عہدے پر مسلم افسر پاکستان نژاد ایڈمرل امجد حسین ہیں۔ وہ گزشتہ برس جب ریئر ایڈمرل کے عہدے فائز ہوئے تھے تو انہوں کہا تھا کہ اقلیتوں کو فوج میں بھرنے کی تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔ امجد حسین کا کہنا ہے ’ ان تک رسائی کے پروگرام چلائے جارہے ہیں، ہم اپنے تخمینے تو نہیں پورے کر پاتے ہیں لیکن ہر سال اس میں بہتری آرہی ہے۔‘ | اسی بارے میں موسٰی قلعہ سے برطانوی فوج واپس17 October, 2006 | آس پاس ’قانون کا احترام کرو‘02 November, 2006 | آس پاس برطانیہ معاشرے میں انضمام، مگر کہاں تک01 December, 2006 | آس پاس گرفتاریوں کے بعد برمنگھم کی سڑکوں پر01 February, 2007 | آس پاس فوج بلانے پر چار وزراء مستعفی11 December, 2006 | آس پاس کرائے کے فوجیوں کے خلاف کاروائی کیسے کی جائے؟04 May, 2004 | آس پاس ’وہی کہا جو فوج کیلئے ٹھیک ہے‘13 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||