BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 03:16 GMT 08:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتاریوں کے بعد برمنگھم کی سڑکوں پر

برمنگھم کے رہائشی
’ہم سب اتفاق سے رہتے ہیں، یہاں کوئی مسئلہ نہیں‘
اسلامی کتابوں کی دکان ’مکتب‘ کے شٹر بند ہیں جو ان بارہ مقامات میں سے ایک ہے جس پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا۔ اس سے پہلے پولیس نے ایک تازہ ترین کارروائی میں برمنگھم سے نو لوگوں کو ایک مسلمان حاضر سروس برطانوی فوجی کو اغوا کرنے کے مبینہ منصوبے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

باوردی پولیس والے، پولیس کی دو گاڑیاں اور رکاوٹیں لوگوں کو مکتب سے دور رکھے ہوئے ہیں جو اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے فٹ پاتھ سے اتر کر سڑک پر چل رہے ہیں۔

ایک پب(شراب خانے) اور بیوٹی سیلون کے بیچ واقع اس دکان کا نام پہلے بھی شہہ سرخیوں میں آ چکا ہے۔

’مکتب‘ معظم بیگ نے شروع کی تھی جو دہشت گردی کے شبہے میں خلیج گوانتانامو میں امریکہ کی قید کاٹ چکے ہیں۔ انہیں برطانوی پولیس نے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت سن دو ہزار میں گرفتار کیا تھا۔

یہ دکان اب ’معظم بیگ‘ کی نہیں اور اس کے نئے مالک اسامہ بن لادن یا القاعدہ کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کرتے ہیں۔

اس دکان کے قریب کھڑی ساڑھی میں ملبوس تین لڑکیوں کو برطانوی ہونے کا اتنا ہی احساس ہے جتنا ’فِش اینڈ چپس‘ پر مشتمل ان کا لنچ برطانوی ہے۔ لیکن وہ جانتی ہیں کہ سپارک ہل کے علاقے میں جہاں پولیس نے تازہ ترین کارروائی کی ہے سب ایسا محسوس نہیں کرتے۔

ان میں سے ایک لڑکی نے کہا کہ ’ہم یہاں پیدا ہوئے تھے، یہ ہمارا ملک ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ اس کے ساتھ کچھ غلط ہو‘۔

’ہم بھی مسلمان ہیں اور ہمارے مذہب میں دہشت گرد بننے کے لیے نہیں کہا گیا، لیکن کچھ نوجوان لڑکوں کے پاس کرنے کو کچھ نہیں اور ممکن ہے بیوقوفی پر اتر آئے ہوں‘۔

تینوں لڑکیاں دوستانہ انداز سے ملتی ہیں لیکن اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں اور زیادہ بات کرنے سے بھی گھبرا رہی ہیں۔ ان میں سے جو سب سے بڑی تھی اس نے کہا کہ ’سچ پوچھو تو کوئی بھی کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ کیونکہ اسے اسلام کے خلاف سمجھا جا سکتا ہے‘۔

سپارک ہل میں پلے بڑھے ایک چھبیس سالہ ٹریول ایجنٹ نے کہا کہ علاقے کی زیادہ تر مسجدیں اعتدال پسند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما لوگوں کے جنگ مخالف جذبات کا استعمال کرتے ہوئے اسلام کی انتہا پسند شکل کی تبلیغ کر رہے ہیں۔

سپارک ہل برمنگھم شہر کے مرکز سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے بازار میں اسلامی، ساڑھیوں، فاسٹ فوڈ، بالٹی ہاؤس اور حلال کھانے کی دکانیں میں گاہکوں کی توجہ کے لیے مقابلہ ہے۔

مختلف دکانوں میں رسپکٹ پارٹی کی طرف سے ایک جنگ مخالف مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ایک اور جگہ پر حزب التحریر کی جانب سے مسلمان خواتین کو ایک مذاکرے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جس کا موضوع ہے ’کمیونٹی میں بہتر تعلقات کے لیے اسلام کو غیر مسلموں کے سامنے کیسے پیش کیا جائے؟‘

سٹریٹ فورڈ روڈ بزنس ایسوسی ایشن کے خزانچی عبدل ونات نے کہا کہ انہیں تازہ ترین کارروائی اور اس میں ہونے والی گرفتاریوں سے دھچکہ لگا ہے کیونکہ یہ متحرک علاقہ ہے، یہاں بہت سے مذہبی گروہ موجود ہیں جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ ’ہم سب اتفاق سے رہتے ہیں، یہاں کوئی مسئلہ نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں سے سب کو حیرت ہوئی ہے، اس سے ذرائع ابلاغ میں علاقے کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد