BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 January, 2007, 23:12 GMT 04:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ:دہشتگردی کا شبہہ، نو گرفتار
برمنگھم پولیس
کارروائی کے دوران بارہ مقامات کی تلاشی لی گئی
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پولیس نے افغانستان میں تعینات ایک حاضر سروس مسلمان فوجی کو اغوا کرنے کے ایک مبینہ منصوبے میں ملوث ہونے کے الزام میں نو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ معاملے کی تفتیش ہفتوں میں نہیں تو دنوں میں مکمل ہو گی۔

جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ منصوبے کا نشانہ مسلمان فوجی برطانیہ میں اپنے گھر میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔اس وقت برطانیہ کی مسلح افواج میں دو سو اڑتالیس مسلمان ہیں۔ مسلح افواج کی کل نفری ایک لاکھ ہے۔

مقامی لوگوں میں غصہ
 جن مقامات پر یہ کارروائی کی گئی وہاں لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے پہلے بھی اس طرح کی کارروائیاں ہوئی تھیں جن میں کچھ ثابت نہیں ہوا
جس علاقے میں یہ گرفتاریاں کی گئی ہیں وہاں کے مرکزی اسلامی مرکز کے رہنماؤں نے کہا کہ کمیونٹی کو اس کارروائی سے شدید دھچکہ لگا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے پر امن رہنے اور پولیس سے تعاون کرنے کے لیے کہا ہے۔

پولیس نے ان نو افراد کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت گرفتار کیا ہے جس کے تحت وہ انہیں اٹھائیس روز تک تحویل میں رکھا جا سکتا ہے۔

مرکز کے سربراہ ایوب پرویز نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کو سزا ملنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کسی کا میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ جان ریڈ نے امن کی اپیل کی اور اس کارروائی کو ’میجر آپریشن‘ قرار دیا۔

بی بی سی کے داخلہ امور کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ جن اطلاعات کے بنیاد پر نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ غلط بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

پولیس کی کارروائی کے دوران سپارک ہل، واشوڈ ہیتھ، کنگ سٹینڈنگ اور ایجبسٹن میں بارہ مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے جن میں رہائشی اور کاروباری مراکز شامل ہیں۔ اس مقامات میں ’دی مکتب‘ نامی کتابوں کی دکان بھی ہے جہاں پر اطلاعات کے مطابق اسلامی مواد بیچا جاتا ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کے جن مقامات پر یہ کارروائی کی گئی وہاں لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے پہلے بھی اس طرح کی کارروائیاں ہوئی تھیں جن میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔

سپارک ہل کہ ثاقب حسین نے بتایا کہ وہ ’مکتب‘ کئی بار جا چکے ہیں لیکن انہیں وہاں کبھی کچھ مشکوک نہیں لگا۔

محمد بابر نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ گرفتار ہونے والوں ان کے ایک کزن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کزن بے قصور ’اس کے پاس تو جمعہ کی نماز کا بھی وقت نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد