برطانیہ:دہشتگردی کا شبہہ، نو گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پولیس نے افغانستان میں تعینات ایک حاضر سروس مسلمان فوجی کو اغوا کرنے کے ایک مبینہ منصوبے میں ملوث ہونے کے الزام میں نو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ معاملے کی تفتیش ہفتوں میں نہیں تو دنوں میں مکمل ہو گی۔ جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ منصوبے کا نشانہ مسلمان فوجی برطانیہ میں اپنے گھر میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔اس وقت برطانیہ کی مسلح افواج میں دو سو اڑتالیس مسلمان ہیں۔ مسلح افواج کی کل نفری ایک لاکھ ہے۔
پولیس نے ان نو افراد کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت گرفتار کیا ہے جس کے تحت وہ انہیں اٹھائیس روز تک تحویل میں رکھا جا سکتا ہے۔ مرکز کے سربراہ ایوب پرویز نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کو سزا ملنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کسی کا میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہونا چاہیے۔ وزیر داخلہ جان ریڈ نے امن کی اپیل کی اور اس کارروائی کو ’میجر آپریشن‘ قرار دیا۔ بی بی سی کے داخلہ امور کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ جن اطلاعات کے بنیاد پر نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ غلط بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ پولیس کی کارروائی کے دوران سپارک ہل، واشوڈ ہیتھ، کنگ سٹینڈنگ اور ایجبسٹن میں بارہ مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے جن میں رہائشی اور کاروباری مراکز شامل ہیں۔ اس مقامات میں ’دی مکتب‘ نامی کتابوں کی دکان بھی ہے جہاں پر اطلاعات کے مطابق اسلامی مواد بیچا جاتا ہے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کے جن مقامات پر یہ کارروائی کی گئی وہاں لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے پہلے بھی اس طرح کی کارروائیاں ہوئی تھیں جن میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔ سپارک ہل کہ ثاقب حسین نے بتایا کہ وہ ’مکتب‘ کئی بار جا چکے ہیں لیکن انہیں وہاں کبھی کچھ مشکوک نہیں لگا۔ محمد بابر نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ گرفتار ہونے والوں ان کے ایک کزن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کزن بے قصور ’اس کے پاس تو جمعہ کی نماز کا بھی وقت نہیں۔ | اسی بارے میں برمنگھم: حالات معمول پر09 July, 2005 | آس پاس لندن: تین خواتین سمیت بارہ گرفتار28 July, 2005 | آس پاس گرفتار ہونے والوں کے نام11 August, 2006 | آس پاس ’پاکستان میں گرفتاریاں اہم تھیں‘10 August, 2006 | آس پاس لیڈز کا پہلا مسلمان میئر منتخب22 May, 2006 | آس پاس برطانیہ: نسلی مباحثوں میں شدت26 February, 2006 | آس پاس دہشت گردی پرنئے قوانین پر اتفاق19 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||