برمنگھم: حالات معمول پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر برمنگھم کے سٹی سنٹر جسے پولیس نے ہفتے کے روز خطرے کے پیش نظر خالی کرالیا تھا، اب حالات معمول پر آرہے ہیں اور شہر کی انتظامیہ کے ملازمین اپنے کام کاج پر واپس لوٹ رہے ہیں۔ ہفتے کے روز پولیس کا کہنا تھا کہ اسے علاقے میں خطرے کی ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پولیس نے کچھ محددو دھماکے کئے ہیں جو عموماً کسی دھماکہ خیز مادے کو ناکارہ بنانے کےلئے کئے جاتے ہیں۔ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ علاقے میں واقع باروں اور ریستورانوں سے باہر آ جائیں۔ پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور کسی گاڑی کو بھی اندرونی رنگ روڈ کے ذریعے شہر کے مرکزی علاقے میں نہیں جانے دیا جا رہا۔ اطلاعات کے مطابق براڈ سٹریٹ کے علاقے میں جہاں بار اور ریستوران واقع ہیں الرٹ کے وقت ہزاروں افراد موجود تھے۔
پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایک بس سے ملنے والے چار مشتبہ پیکٹوں کے’ کنٹرولڈ‘ دھماکے کیے ہیں۔ بی بی سی کے داخلہ امور کے نامہ نگار ڈینیئل سٹیمفورڈ کے پولیس کی طرف سے پبلک وارننگ کا جاری کیے جانے سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ پولیس کو ملنے والے اطلاع کافی حد تک ٹھوس اور قابل اعتبار تھی۔ نامہ نگار کے مطابق یہ ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے کہ پولیس پورے مرکزی علاقے کو خالی کرا لے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||