BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن: دہشت گردی کے ملزمان کی پیشی
پولیس کی گاڑی میں ایک ملزم کو کورٹ لایا جا رہا ہے۔
ملزمان کو فرداً فرداً کورٹ لایا گیا۔
برطانیہ سے امریکہ جانے والے متعدد طیاروں کو دورانِ پرواز دھماکوں سے اڑانے کے دہشت گردی کے مبینہ منصوبے کے ضمن میں گیارہ افراد کوعدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

آٹھ افراد جو کہ لندن میں ویسٹ منسٹر کے علاقے میں میجسٹریٹس کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، ان پر اقدام قتل اور دہشت گردی کی تیاری کرنے کا الزام ہے۔
دو پر حکام کو متعلقہ معلومات ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے جبکہ ایک سترہ سالہ ملزم پر دہشتگردی میں استعمال کی جانے والی اشیا رکھنے کا الزام ہے۔

یہ گیارہ افراد میجسٹریٹوں کے سامنے تین تین افراد کے گروہوں میں پیش ہو رہے ہیں۔

لیٹن( مشرقی لندن) سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ تنویر حسین ، 4 ستمبر تک حراست میں رہیں گے جب انہیں اولڈ بیلی میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ان پر دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت اقدام قتل اور دہشت گردی کی تیاری کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

ان گیارہ ملزمان کو کالے شیشے والی پولیس کی گاڑیوں میں فرداً فرداً عدالت لایا گیا۔ ان ملزمان کو پیڈنگٹن گرین پولیس سٹیشن سے عدالت تک ایک گمنام راستے سے لایا گیا۔

ایک عورت کو جسے پولیس تحقیقات کے دوران دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، رہا کر دیا گیا ہے جبکہ گیارہ ملزمان حراست میں ہیں۔

اس سے قبل پیر کو دہشت گردی کے انسداد کے محکمے کی سربراہ سوزن ہیمنگ نے الزامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا منصوبہ تھا کہ ’بم تیار کرنے کا سامان طیارے پر لایا جائے اور اسکو استعمال کر کے طیارے کو دھماکے سے تباہ کر دیا جائے۔‘

25 سالہ احمد عبداللہ علی، عرفات وحید خان ،19 سالہ آدم خطیب، 25 سالہ ابراہیم ساونت اور 22 سالہ وحید ذمان ، ان سب کا تعلق والتھامسٹو سے ہے۔ ان پانچوں پر دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت اقدام قتل اور دہشت گردی کی تیاری کرنے کا الزام ہے۔ لیٹن سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ حسین، 28 سالہ عمر اسلام اور 26 سالہ اسد علی سرور جن دونوں کا تعلق ہائی وائیکومب سے ہے، ان پر بھی یہی الزامات ہیں۔

ایک اور شخص مہران حسین اور مشرقی لندن والتھامسٹو سے ایک آٹھ ماہ کے بچے کی ماں کوثر علی پر حکام کو متعلقہ معلومات ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔
کوثر علی پر ہائی کورٹ میں یہ الزام اسوقت لگایا گیا ہے جب انکے وکلاء انکی حراست کے خلاف قانونی کاروائی شروع کرنے والے تھے۔
سترہ سالہ لڑکے پر الزام ہے کہ اسکے قبضے سے بموں کے متعلق ایک کتاب، خودکشی کے خطوط اور دہشت گردی پر آمادہ لوگوں کی وثیتیں برآمد کی گئی ہیں۔

لندن پولیس کے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر پیٹر کلارک نے صحافیوں کو بتایا کہ منصوبے کی تحقیقات کے دوران بم تیار کرنے کا سامان جس میں کیمیائی اور الیکٹرک اجزاء شامل ہیں، برآمد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مذید کہا کہ چند وڈیو ریکارڈنگز جن کو شہداء کی وڈیوز کہا جاتا ہے، بھی برآمد کی گئی ہیں۔

پیٹر کلارک نے کہا ’ میں عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم آپکو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تا کہ آپ اپنی زندگیاں ہر وقت کے خوف کے بغیر جی سکیں۔‘

 دہشت گردی کا خوف ایک حقیقت ہے۔ یہ خوف قریب ہے، انتہائی خطرناک ہے اور دیرپا ہے۔
پیٹر کلارک

انہوں نے کہا کہ ’ہم تفصیلات ڈھونڈنے کی کوشش میں حقیقت کو بھلا نہیں سکتے اور نہ ہی تسلی سے بیٹھ سکتے ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ تحقیقات ابھی انتہائی وسیع پیمانے جاری ہیں اور تفتیش عالمگیر سطح پر ہو گی۔ ہم پرعظم ہیں کہ دہشت گردی کے اس منصوبے کے ہر سراغ کا کھوج لگائیں گے اور تحقیق کے ہر پہلو کو مدنظر رکھیں گے۔‘
پولیس برطانیہ کے کئی گھروں کی تلاشی لے رہی ہے۔

10 اگست کو پولیس چھاپوں میں والتھامسٹو، مشرقی لندن، بکنگم شائر میں ہائی وائیکومب اور برمنگھم سے 24 لوگ گرفتار کیے گئے تھے۔
ہوائی اڈوں پر حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے تھے جسکی وجہ سے کئی دنوں تک برطانیہ میں بہت سی پروازیں منقطع ہو گئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد