لندن: دہشت گردی کے ملزمان کی پیشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ سے امریکہ جانے والے متعدد طیاروں کو دورانِ پرواز دھماکوں سے اڑانے کے دہشت گردی کے مبینہ منصوبے کے ضمن میں گیارہ افراد کوعدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ آٹھ افراد جو کہ لندن میں ویسٹ منسٹر کے علاقے میں میجسٹریٹس کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، ان پر اقدام قتل اور دہشت گردی کی تیاری کرنے کا الزام ہے۔ یہ گیارہ افراد میجسٹریٹوں کے سامنے تین تین افراد کے گروہوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ لیٹن( مشرقی لندن) سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ تنویر حسین ، 4 ستمبر تک حراست میں رہیں گے جب انہیں اولڈ بیلی میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ان پر دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت اقدام قتل اور دہشت گردی کی تیاری کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ ان گیارہ ملزمان کو کالے شیشے والی پولیس کی گاڑیوں میں فرداً فرداً عدالت لایا گیا۔ ان ملزمان کو پیڈنگٹن گرین پولیس سٹیشن سے عدالت تک ایک گمنام راستے سے لایا گیا۔ ایک عورت کو جسے پولیس تحقیقات کے دوران دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، رہا کر دیا گیا ہے جبکہ گیارہ ملزمان حراست میں ہیں۔ اس سے قبل پیر کو دہشت گردی کے انسداد کے محکمے کی سربراہ سوزن ہیمنگ نے الزامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا منصوبہ تھا کہ ’بم تیار کرنے کا سامان طیارے پر لایا جائے اور اسکو استعمال کر کے طیارے کو دھماکے سے تباہ کر دیا جائے۔‘ 25 سالہ احمد عبداللہ علی، عرفات وحید خان ،19 سالہ آدم خطیب، 25 سالہ ابراہیم ساونت اور 22 سالہ وحید ذمان ، ان سب کا تعلق والتھامسٹو سے ہے۔ ان پانچوں پر دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت اقدام قتل اور دہشت گردی کی تیاری کرنے کا الزام ہے۔ لیٹن سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ حسین، 28 سالہ عمر اسلام اور 26 سالہ اسد علی سرور جن دونوں کا تعلق ہائی وائیکومب سے ہے، ان پر بھی یہی الزامات ہیں۔ ایک اور شخص مہران حسین اور مشرقی لندن والتھامسٹو سے ایک آٹھ ماہ کے بچے کی ماں کوثر علی پر حکام کو متعلقہ معلومات ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔ لندن پولیس کے ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر پیٹر کلارک نے صحافیوں کو بتایا کہ منصوبے کی تحقیقات کے دوران بم تیار کرنے کا سامان جس میں کیمیائی اور الیکٹرک اجزاء شامل ہیں، برآمد کیے گئے ہیں۔ پیٹر کلارک نے کہا ’ میں عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم آپکو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تا کہ آپ اپنی زندگیاں ہر وقت کے خوف کے بغیر جی سکیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم تفصیلات ڈھونڈنے کی کوشش میں حقیقت کو بھلا نہیں سکتے اور نہ ہی تسلی سے بیٹھ سکتے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ تحقیقات ابھی انتہائی وسیع پیمانے جاری ہیں اور تفتیش عالمگیر سطح پر ہو گی۔ ہم پرعظم ہیں کہ دہشت گردی کے اس منصوبے کے ہر سراغ کا کھوج لگائیں گے اور تحقیق کے ہر پہلو کو مدنظر رکھیں گے۔‘
10 اگست کو پولیس چھاپوں میں والتھامسٹو، مشرقی لندن، بکنگم شائر میں ہائی وائیکومب اور برمنگھم سے 24 لوگ گرفتار کیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’القاعدہ منصوبہ جیسا لگتا ہے‘10 August, 2006 | آس پاس طیارہ سازش: گیارہ پر فرد جرم عائد21 August, 2006 | آس پاس پاکستان سے بھی گرفتاریاں: حکام10 August, 2006 | آس پاس گرفتار افراد کے جاننے والے کیا کہتے ہیں11 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||