برطانیہ معاشرے میں انضمام، مگر کہاں تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمالیہ کے دامن میں ایک چھوٹے سے قصبے میرپور سے تعلق رکھنے والے چند لوگ یو کے میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات پر گفت و شنید کر رہے ہیں۔ کیا انہیں برطانیہ کے معاشرے میں گھل مِل جانا چاہیے؟ انہیں اپنے نئے وطن یا برطانیہ کے رسم و رواج سے کس حد تک اثرات قبول کرنے چاہیں؟ ہم بریڈفورڈ اور برمنگھم سے ہزاروں میل دور ہیں۔ لیکن یہاں پر بسنے والے ہر فرد کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار برطانیہ میں رہتا ہے اور کثیر الثقافتی کی بحث کی گونج یہاں تک صاف سنائی دیتی ہے۔ ’جو لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں وہ درمیان میں لٹک رہے ہیں۔ وہ برطانوی طریقہِ زندگی تو اختیار کر نہیں سکتے ہیں جبکہ وہ اپنے طور طریقے بھی بھول چکے ہوتے ہیں‘۔ مومن کے مطابق روتھرھیم میں مقیم اُس کا کزن نہ صرف اُن پڑھ ہے بلکہ اُس نے سب سے قیمتی چیز خاندانی ڈھانچے سے بھی دوری اختیار کر لی ہے۔ ’ہم یہاں گھر کے بزرگوں کا کہنا مانتے ہیں جبکہ وہاں مکمل آزادی ہے۔‘ طارق آج کل رشتہ داروں سے ملنےگاؤں بوہا گیا ہوا ہے، یہاں وہ بڑا ہوا اور لڑکپن میں برطانیہ گیا، وہ ان فرق کو دوسروں کی نسبت زیادہ محسوس کرتا ہے۔، ’میرا خیال تھا کہ کبھی خاندان کی طرف سے طے کی گئی
مگر اُس کے بچوں کا کیاجو ناٹنگھم میں رہتے ہیں۔کیا وہ اُنہیں اُن کی پسند کی شادی کرنے دے گا؟ ’ہاں کیوں نہیں، جس سے وہ چاہیں۔‘ کیا اگر وہ کسی غیر مسلم سے شادی کرنا چاہیں؟میں نے پوچھا۔ تقریباً نصف سے زیادہ برطانیہ میں مقیم پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ میر پور ں اُنیس سو ساٹھ میں ایک ڈیم تعمیر ہوا تھا جس کی وجہ سے ارد گرد کے علاقے متاثر ہو گئے تھے۔ برطانوی کمپنی اس تعمیر میں شامل تھی۔ ڈیم کے متاثرین کو پرمٹ دے کر یو کے روانہ کر دیا گیا۔ تب سے ہزاروں لوگ یہاں آچکے ہیں،اگر آپ یہاں مقیم پاکستانیوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو میرپور کو سمجھنا ہو گا۔ یہاں کی دیہاتی زندگی پاکستانی معیار سے بھی پسماندہ ہے۔ تعلقات قائم کیے گئے ہیں،معاہدے طے ہوئے ہیں، لیکن اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ یہ خاندانوں کے تعلعقات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ میں نے راشد سے پوچھا کیا تمھیں کسی قسم کی دقعت پیش آئی جب تم مِڈلینڈ اور لندن میں آٹھ سال تک میک اُپ بیچتے رہے اور ہوٹلوں میں کام کرتے رہے؟ ’نہیں کوئی مشکل نہیں پیش آئی‘۔اُُس نے کہا۔’ بڑا خوشگوار تجربہ رہا‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُسے اپنی روایات کی قربانی نہیں دینی پڑی کیونکہ وہ اپنے کلچر سے باہر کسی سے گھلا ملا ہی نہیں۔ راشد نے بتایا کہ برطانیہ میں اُسی فیصد گاہک میرپور سے ہیں جبکہ باقی دنیا کے دوسرے حصے سے تعلق رکھتے ہیں۔ راشد ایک ملنسار اور دوستانہ رویہ کا حامل ہے۔مگر اُس نے اب تک کوئی برطانوی شخص اپنا دوست نہیں بنایا۔ | اسی بارے میں برمنگھم: حالات معمول پر09 July, 2005 | آس پاس برطانیہ میں مساجد06 July, 2005 | آس پاس برمنگھم: مسلم قبروں کی بے حرمتی04 November, 2005 | آس پاس لندن: تین خواتین سمیت بارہ گرفتار28 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||