طیارہ سازش: دو مشتبہ افراد کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پولیس نے مسافر طیاروں کو تباہ کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث دو مشتبہ افراد کو فردِ جرم عائد کیے بغیر رہا کردیا ہے۔ ان دو افراد کو بدھ کو مقامی وقت کے مطابق رات کے گیارہ بجے رہا کیا گیا تاہم زیر حراست دیگر نو افراد سے ابھی پولیس مزید تفتیش کرے گی۔ ان میں سے آٹھ کو ابھی مزید سات دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ پولیس جمعرات کی شام تک مشرقی لندن سے تعلق رکھنے والے نویں مشتبہ شخص چوبیس سالہ عمر حسین سے طیارہ سازش کے سلسلے میں تفتیش کر سکتی ہے۔ گیارہ دوسرے مشتبہ افراد جن پر فرد جرم عائد کی گئی ہے انہیں منگل کو لندن کی ایک عدلت میں پیش کرکے پولیس ریمانڈ میں دے دیا گیا تھا۔ عمر حسین کے وکیل ٹم رستم کا کہنا ہے کہ انہیں عدالت کے اس حکم سے خوشی ہوئی ہے جس کے مطابق پولیس کو ان کے موکل سے تفتیش کے لیئے صرف 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے عمر کے خلاف کیس کو ’قیاسی شہادت‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔ مسٹر رستم ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف نئے قوانین انتہائی موثر ہیں جو پولیس کے تفتیش سے متعلق اختیارات پر مکمل چیک رکھتے ہیں۔ عمر حسین کے 23 سالہ بھائی مہران حسین بھی طیارہ سازش کیس میں شاملِ تفتیش ہیں جبکہ گیارہ دیگر افراد میں سے آٹھ پر قتل کی سازش کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے۔ دو افراد پر معلومات کو چھپانے اور سترہ سالہ ایک شخص پر دوسروں کو دہشت گردی پر اکسانے کے لیئے مضامین لکھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے تاہم تمام افراد نے اپنے ُاوپر عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
ان آٹھ افراد کو سٹی آف ویسٹ منسٹر کے مجسریٹ کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں انہیں چار سمبتر تک پولیس ریمانڈ میں دے دیا گیا ہے انہیں بعد ازاں اولڈ بیلی میں پیش کیا جائے گا۔ ان آٹھ افراد میں لیٹن کے 25 سالہ تنویر حسین، سٹریٹ فورڈ کے 28 سالہ عمر اسلام، والتھم سٹو کے 25 سالہ عرفات وحید خان، 25 سالہ احمد عبداللہ علی، 22 سالہ وحید زمان، ہائی ویکم کے 26 سالہ اسد علی سرورسونٹ، 19 سالہ آدم خطیب اور لندن کے 25 سالہ ابراہیم سونٹ شامل ہیں۔ ان افراد پر قتل کی سازش کرنے اور دہشت گردی ایکٹ 2006 کے سیکشن فائیو کے تحت دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دوسرے افراد میں چنگ فورڈ کے مہران حسین اور آٹھ ماہ کی بچی کی ماں 23 سالہ کوثر علی پر معلومات کو چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے اور انہیں انیس ستمبر تک ریمانڈ میں دیا گیا ہے۔ سترہ سالہ ایک لڑکے پر خودکش حملوں سے متعلق ایک کتاب رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اسے 29 اگست تک ریمانڈ پر دیا گیا۔ ان افراد کو دس اگست کو پولیس چھاپوں کے بعد برمنگھم، ہائی ویکم، مشرقی لندن اور والتھم سٹو سے گرفتار کیا گیا۔ | اسی بارے میں ’لندن سازش میں جیشِ محمد ملوث‘12 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟12 August, 2006 | آس پاس طیارہ سازش: گیارہ پر فرد جرم عائد21 August, 2006 | آس پاس ’طیارہ سازش: سرغنہ افغانستان میں‘18 August, 2006 | آس پاس ’حزب اللہ اور طیارہ سازش کا تعلق‘13 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||