BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 November, 2006, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قانون کا احترام کرو‘
سابق ایرانی صدر محمد خاتمی
سابق ایرانی صدر نے برطانوی مسلمانوں کو برطانوی قوانین کے احترام کی اپیل کی ہے۔
ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے برطانوی مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ برطانوی شہریت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے برطانوی قوانین کا احترام کریں۔

محمد خاتمی منگل کو سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری حاصل کرنے کے لیے تین روزہ دورے پر برطانیہ پہنچے۔ بی بی سی سے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے منصوبہ بندی کرنے پر حق بجانب ہے۔ تاہم ان کے مطابق عراق میں مداخلت کی وجہ سے برطانیہ میں انتہا پسندی میں مذید اضافہ ہوا ہے۔

انیس سو اناسی کے ایرانی انقلاب کے بعد سابق صدر محمد خاتمی سب سے سینئر شخصیت ہیں جنہوں نے برطانیہ کا دورہ کیا ہے۔ بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ’ٹوڈے‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد مشرق اور مغرب کے عظیم مذاہب اور تہذیوں کے درمیان رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔

 امریکہ کی طرف سے مشرقِ وُسطیٰ میں مغربی طرز کی جمہوریت قائم کرنے کی کوششیں مضحکہ خیز ہیں کیونکہ جمہوریت کو مختلف ثقافت اور حالات رکھنے والے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک برآمد نہیں کیا جا سکتا
محمد خاتمی

انہوں نے عراق میں جاری مزاحمتی دہشت گردی کی سخت مذمت کی اور امریکی صدر جارج بُش کو انتہا پسند قرار دیا۔ سابق صدر خاتمی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے مشرقِ وُسطیٰ میں مغربی طرز کی جمہوریت قائم کرنے کی کوششیں مضحکہ خیز ہیں کیونکہ جمہوریت کو مختلف ثقافت اور حالات رکھنے والے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک برآمد نہیں کیا جا سکتا۔

سابق ایرانی صدر خاتمی نے مذید کہا کہ امریکہ کی عراق اور افغانستان میں مداخلت سے دہشت گردی میں کمی کی بجائے، اس کی نئی اقسام نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے عراق سے امریکی اور برطانوی فوج کو فوی طور پر واپس بلوانے کا مطالبہ کیا کیونکہ بقول ان کے، اس سے عالمی سطح پر تشدد کی ایک بڑی وجہ ختم ہو جائے گی۔

برطانیہ میں نقاب کے حالیہ تنازعات پر بات کرتے ہوئے محمد خاتمی نے کہا کہ برطانوی مسلم خواتین کو مدنطر رکھنا چاہیئے کہ نقاب پہننا، ان کا مذہبی فریضہ نہیں ہے۔ تاہم نقاب پہننا ان کا حق ضرور ہے۔

سابق ایرانی صدر محمد خاتمی
سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی نے محمد خاتمی کو اعزازی ڈگری سے نوازا

انہوں نے برطانوی مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’آپ، پہلے برطانوی ہیں اس لیے آپ کو برطانوی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیئے۔‘ سابق صدر خاتمی نے یہ اپیل بھی کی کہ عیسائی ملک میں اسلامی اقدار کا احترام کیا جائے۔

منگل کو جب سابق ایرانی صدر محمد خاتمی اپنی اعزازی ڈگری لینے کے لیے سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی پہنچے تو چند طلباء اور ایرانی جلاوطن شہریوں نے ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران محمد خاتمی نے سرحدوں سے بالاتر دوستی پر زور دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد