BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 January, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاسترو: آمر یا انقلاب کی علامت
کاسترو
کاسترو امریکہ، اس کی سرمایہ دارانہ معیشت اور تجارتی پابندیوں کے خلاف سینہ سپر رہے
عصر حاضر کے رہنماؤں میں سے دنیا کے سیاسی افق پر سب سے طویل عرصہ سے موجود کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو پچھلے سال جولائی سے منظر عام پر نہیں آئے، ان کی صحت کے بارے میں چہ مگوئیاں جاری ہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔

بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار پال رینالڈ ان ( فیڈل کاسترو) کی زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی داڑھی اور فوجی وردی کی وجہ سے آسانی کے ساتھ پہچانے جا سکتے ہیں۔

ان کی زندگی کی کہانی بہت حد تک موجودہ زمانے کی داستان ہے: انقلابی تحریکیں، سرد جنگ، مشرق بمقابلہ مغرب، شمال بمقابلہ جنوب اور اشتراکیت بمقابلہ سرمایہ داری۔ یہ اور بات ہے کہ دنیا اب شاید سیاست کو ان کے اس انداز میں نہیں دیکھتی۔

لیکن فیڈل کاسترو ویسے ہی رہے، انقلاب کی علامت، ایک اشتراکیت پسند جو اشتراکیت (کمیونزم) کے زوال کے باوجود اپنے نظریے پر قائم ہے۔

وہ اپنے پیروکاروں کو نعروں اور طویل تقریروں سے متاثر کرتے رہے۔ امریکہ، اس کی سرمایہ دارانہ معیشت اور تجارتی پابندیوں کے خلاف سینہ سپر رہے۔ آزاد

مخالفین زندان میں
 آزاد تجارت کی مخالفت کرتے رہے اور آہنی طرز حکومت اختیار کرتے ہوئے مخالفین کو سال ہا سال کے لیے زندان میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا
تجارت کی مخالفت کرتے رہے اور آہنی طرز حکومت اختیار کرتے ہوئے مخالفین کو سال ہا سال کے لیے زندان میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا۔

عدم برداشت

لاطینی امریکہ کے پسے ہوئے طبقات کی آواز بننے، سرمایہ دارانہ ہوس کی مخالفت کرنے، کیوبا میں مساوات پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے، صحت عامہ کا مؤثر نظام ترتیب دینے اور ضرورت مندوں کے لیے دوسرے ممالک میں اپنے ملک سے طبی ماہرین بھجوانے کے حوالے سے ان کی تعریف کی جاتی ہے۔

صرف طبی عملہ ہی نہیں انہوں نے انقلابیوں کی مدد کے لیے انگولا اور ایتھوپیا میں فوج بھی بھیجی۔ لاطینی امریکہ میں جنم لینے والی کئی انقلابی تحریکوں میں بھی ان کا ہاتھ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن عدم برداشت کے رویہ، اپنے لوگوں کو غربت میں رکھنے اور بندشوں سے پاک معیشت کے ثمرات سے انکار کی وجہ سے ان پر تنقید بھی کی جاتی ہے، حالانکہ چین کے اشتراکیت پسندوں نے بھی رفتہ رفتہ آزاد معیشت کو گلے لگا لیا ہے۔

صدر ریگن کے دور میں ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ سوویت یونین کی ایماء پر وسطی امریکہ پر انقلاب کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایٹمی جنگ کے دہانے پر

کیوبا کی طرف سے بحر اوقیانوس میں جزائر غرب الہند اور وسطی امریکہ کے درمیان واقع اس وقت کے انقلابی ملک گریناڈا کی مدد، وہاں امریکی حملے کا جواز بنی۔

کاسترو اور راہول
کاسترو اپنے بھائی اور موجودہ قائم مقام صدر راؤل پر بہت اعتماد کرتے ہیں

صدر کاسترو کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مستقل طور پر کشیدہ رہے۔ اس دوران کبھی کبھی برف پگھلتی نظر آئی، جیسا کہ صدر جمی کارٹر کے عہد میں، لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔

کیوبا پر لگائی گئی امریکی پابندیوں کو دونوں فریقین نے استعمال کیا۔ امریکہ نے کیوبا کو تنہا کرنے کی پالیسی کے طور پر اور کاسترو نے اپنے ملک کی غربت کے جواز کے طور پر۔

سینتالیس سالہ دور اقتدار میں انہوں نے دنیا کے سٹیج پر اپنا ایک بڑا مقام بنایا اور اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب امریکہ اور سوویت یونین ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ یہ انیس سو باسٹھ کا ’میزائیل بحران‘ تھا، جس نے انہیں دنیا بھر میں نمایاں کر دیا۔

اس سے پہلے وہ صرف ایک طرحدار انقلابی رہنماء کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ایک شاندار گوریلا جدوجہد کے ذریعے آمر بٹیسٹا کی حکومت کا تختہ الٹا اور انیس سو اکسٹھ میں امریکی قیادت میں کیوبا کے جلا وطن شہریوں کے ’بے آف پِگز‘ پر حملے کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا۔

لیکن جب خروشیف نے کاسترو کی رضامندی کے ساتھ کیوبا میں ایٹمی میزائیل نصب کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ (کاسترو) امریکہ کی نظر میں صرف کانٹے کی طرح چھبنے کی بجائے ایک حقیقی خطرے کے طور پر دیکھے جانے لگ گئے۔

تاہم ابتداء میں جیک کینیڈی اور اور بعد میں خروشیف کی ماہرانہ سفارت کاری نے کیوبا کو تباہی سے بچا لیا۔

مردِ بحران

اس وقت کے امریکی وزیر دفاع رابرٹ میکنامارا نے انیس سو بانوے میں صدر کاسترو سے ملاقات کی۔ میکنامارا کے مطابق صدر کاسترو نے انہیں بتایا کہ بحران کے وقت کیوبا میں ایک سو باسٹھ میزائیل نصب تھے۔

امریکی پابندیاں
 امریکی پابندیوں کو دونوں فریقین نے استعمال کیا۔ امریکہ نے کیوبا کو تنہا کرنے کی پالیسی کے طور پر اور کاسترو نے اپنے ملک کی غربت کے جواز کے طور پر

میکنامارا نے صدر کاسترو سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ان میزائلوں کو چلانے کا مشورہ دیا تھا تو ان کا جواب تھا ’ہاں، میں ایسا کیا تھا‘۔ جب پوچھا گیا کہ اس کے نتیجے میں کیوبا کا کیا ہوتا تو انہوں نے کہا ’وہ تباہ ہو جاتا‘۔

کاسترو اس سفارت کاری کا حصہ نہیں تھے جس کے نتیجے میں ’میزائیل بحران‘ کا خاتمہ ہوا، لیکن وہ اس بحران سے حیران کن طور پر مضبوط ہو کر ابھرے۔ کینیڈی نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ کیوبا پر حملہ نہیں کرے گا -- وعدہ جسے اب بھی نبھایا جا رہا ہے۔

تاہم سی آئی اے نے ان سے جان چھڑانے کے لیے کئی حربے اختیار کیے، جن میں مافیا کا استعمال اور زہر دینے کی کوششیں شامل ہیں، لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ہوا۔ وہ دشمنوں کی طرف سے نقصان پہنچانے کی کوششوں سے بچ نکلتے رہے۔

ان کے بعد کیوبا کا جو بھی حال ہو، فیڈل کاسترو کا نام تاریخ میں زندہ رہے گا۔

اسی بارے میں
’زندہ‘ کاسترو ٹی وی پر
29 October, 2006 | آس پاس
’ آخر وہ میرا خون ہے‘
03 August, 2006 | آس پاس
’کاسترو کو پارکنسنز ہے‘
17 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد