کیوبا: فیڈل کاسترو کے اسی سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو تیرہ اگست کو اسی سال کے ہو گئے ہیں اور اس طرح کسی ملک پر حکومت کرنے والے دنیا کے وہ سب سے طویل العمر سیاسی رہنما بن گئے ہیں۔ بی بی سی نیوز رواں ہفتے ان کی سیاسی زندگی اور کریبین جزیرے پر اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ بی بی سی کے سٹیفن گبز ہوانا سے فیڈل کاسترو کے بارے میں پائی جانے والی عوامی اراء کے بارے میں لکھتے ہیں: ہوانا میں آنے والے لوگوں کو یہاں جو بہت سی باتوں میں سب سے تعجب خیز بات محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی جگہ بھی فیڈل کاسترو کا مجسمہ دکھائی نہیں دیتا۔ خصوصا یہاں آنے والے ٹی وی کے صحافیوں کو بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ کیوبا میں زندہ افراد کے مجسمے پر پابندی ہے یعنی زندہ کیوبن شخصیات کے مجسمے بنا کر سرعام نہیں لگائے جا سکتے۔ فیڈل کاسترو اکثر کہتے ہیں کہ وہ اپنی ذات سے کسی بھی قسم کے پرستش آمیز احساسات قائم کرنے کی کسی طور اجازت نہیں دیں گے۔ اس لیے ہوانا میں چے گویرا اور کیوبا میں انقلاب کے دور کے کئی قومی رہنماؤں کی کئی قسم کی تصاویر تو موجود ہیں مگر 47 سال تک ملک کو چلانے والے اس رہنما کی کوئی تصویر بھی کہیں موجود نہیں ہے۔ تاہم فیڈل کاسترو ہر جگہ موجود ہیں۔ جب میں نے سینٹرو ہوانا میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہوبرٹ کو ٹپ دی تو اس نے ازراہ مذاق کہا کہ ایک پیسو(لاطینی امریکہ کے معیاری سکے کا نام) میرا ہے جبکہ اس میں سے پانچ فیڈل کاسترو کے لیے ہیں۔ کسی بات کے دوران کیوبن شہری حکومت کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں تو وہ لفظ حکومت نہیں بلکہ اس کی جگہ فیڈل استعمال کریں گے۔ کیوبن اکثر اوقات کسی انجانے خوف کے تحت اس نام کو اپنے منہ سے نہیں نکالتے ہیں اور اس کی جگہ وہ ہاتھ سے فیڈل کی داڑھی کا اشارہ کرکے بتاتے ہیں۔
بہت سے شہریوں نے فیڈل کو روبرو نہیں دیکھا ہے اور وہ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ آیا وہ شادی شدہ ہیں یا نہیں اور یہ بھی کہ آیا ان کے بچے ہیں یا نہیں تاہم وہ ان کے بارے میں ایسے ہی بات کرتے ہیں کہ جیسے وہ ان کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہوں۔ ساٹھ سالہ ایک خاتون ماریا پیڈرون کا کہنا تھا کہ’ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ فیڈل دنیا کے سب سے نرم دل انسان ہیں۔ وہ ہم سب سے محبت کرتے ہیں۔‘ فیڈل جب لوگوں کے روبرو آتے ہیں تو وہ ان پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور لوگ انہیں مہبوت ہو کر تکنے لگتے ہیں۔ چھبیس جولائی کو اپنے آپریشن سے قبل انہوں نے ملک بھر میں عنقریب لگائے جانے والے نیوجنریشن پلانٹس میں سے ایک کا افتتاح کیا جو ان کے توانائی کے انقلاب کا ایک حصہ ہے۔ ان کی تقریر سے قبل مقامی انتظامیہ کی ایک درمیانی عمر کی خاتون نے پلانٹ کی کچھ تکنیکی باتیں بتائیں اور سٹیج سے اترنے کے بعد وہ فیڈل کاسترو کے برابر جا کھڑی ہوئیں۔ بظاہر شرمیلی سی یہ خاتون خود کو سسکیاں بھرنے سے روک نہ سکیں۔ انہوں نے بچوں کی طرح سے اپنا ایک ہاتھ صدر کے کاندھے پر رکھ دیا، ایسے جیسے بچہ اپنے باپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ فیڈل کاسترو اپنی موجودگی میں اس قسم کے واقعات کے عادی معلوم ہوتے تھے۔انہوں نے نہایت نرمی سے اپنا ایک بازو اس خاتون کے گرد حائل کر دیا۔ اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ 79 سالہ یہ شخص چھٹی لے رہا ہے کیونکہ حال ہی میں ان کی آنتوں کا آپریشن ہوا ہے۔ کاسترو اپنی مائیکرو مینیجنگ کی وجہ سے مشہور ہیں اور وہ دن رات کے تمام اوقات میں اپنے وزراء پر زور دیتے ہیں کہ وہ حکومت کے بہت سے منصوبوں کے بارے میں پوری جانچ پڑتال یا ان پر نظر رکھیں۔ کیوبا سے تجارت کرنے والے سینئر تاجروں کا کہنا ہےکہ صدر سے براہ راست چیزوں کی قیمت پر ہونے والے مذاکرات میں اتفاق رائے کا ہونا اکثر تعطل کا سبب بن جاتا ہے۔ کاسترو نے اپنی حکومت کے خلاف مخالفت کبھی برداشت نہیں کی اور اکثر وہ خود ہی اپوزیشن کے رہنما کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں اور ٹی وی پر نشری تقریر میں حکومتی اہلکارو ں کو وعظ و تلقین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سمندری طوفان کے موسم میں وہ کیوبا کے محکمہ موسمیات کے ساتھ ایک ماہر موسمیات کی طرح آنے والے طوفانی موسم کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ سمبتر 2004 میں جب سمندری طوفان ’آئیوان دی ٹیریبل‘ سے کیوبا متاثر ہوتا نظر آیا تو اس وقت درپیش مسائل کو بذات خود دیکھنے کے لیے انہوں نے ملک کے مغربی حصے کا سفر کیا۔ اس طوفان نے آخری وقت میں اپنا رخ تبدیل کردیا اور کیوبا کو چھوڑتا ہوا اگے نکل گیا۔گزشتہ سال دسمبر میں کیوبا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فیڈل کاسترو کے بغیر کیوبا میں ایک ایسا خلا پیدا ہو جائے گا جسے کسی طور پُر نہیں کیا جا سکتا۔ فیڈل کاسترو کی یہ مختصر سی غیر حاضری یقینا محسوس کی جائے گی۔ | اسی بارے میں کاسترونےاقتدار بھائی کومنتقل کردیا01 August, 2006 | آس پاس بہتر محسوس کر رہا ہوں: کاسترو02 August, 2006 | آس پاس ’کاسترو کو پارکنسنز ہے‘17 November, 2005 | آس پاس ’لوگ کہتے ہیں کیوبا کی باری کب ہے؟‘02.05.2003 | صفحۂ اول کیوبا پر لگی پابندیاں اٹھائیں: جمی کارٹر15.05.2002 | صفحۂ اول کیوبا: انقلاب کے پچاس سال26.07.2003 | صفحۂ اول امریکہ پر کیوبا کی تنقید27 December, 2003 | صفحۂ اول سمندری طوفان کیوبا کے قریب13 September, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||