| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ پر کیوبا کی تنقید
کیوبا کی حکومت نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے فوجی اڈے گوانتانامو بے کو دہشتگردی کے ملزموں کے لئے بطور نظربندی کیمپ استعمال کررہا ہے جہاں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل کیوبا کی حکومت امریکہ پر تنقید کرنے سے گریز کرتی رہی ہے۔ کیوبا کی پارلیمان کی جانب سے یہ بیان بڑے واضح الفاظ میں جاری کیا گیا ہے اور اس میں امریکی فوجی اڈے کو ایسا نظر بندی کیمپ قرار دیا گیا ہے جس میں ملزموں کو ظالمانہ سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ امریکہ نے کیوبا سے یہ اڈہ ایک معاہدے کے تحت لیز پر لیا ہوا ہے۔ یہ معاہدہ انیس سو انسٹھ کے اس انقلاب سے قبل ہوا تھا جس کے ذریعے فیدل کاسترو نے ملک کا اختیار سنبھالا تھا۔ صدر کاسترو اس معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور امریکہ کی جانب سے ہر سال اڈے کے کرائے کے طور پر بھیجے جانے والے چیکس کو کیش نہیں کرواتے۔ اب تک کیوبا نے امریکہ پر کوئی تنقید نہیں کی تھی اور جب دو سال قبل پاکستان اور افغانستان سے ابتدائی طور پر القاعدہ اور طالبان کے مشتبہ قیدی یہاں لائے گئے تھے تو تجزیہ کار حیران تھے کہ کیوبا نے امریکہ کو طبی اور دیگر اشیاء کی امداد فراہم کی تھی۔ لیکن اب کیوبا کی حکومت عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہوکر وہاں مقید افراد کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر اپنی تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ اب تک گوانتانامو بے میں قید چھ سو افراد پر باقاعدہ الزامات عائد نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے دفاع کے لئے وکلاء تک رسائی حاصل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||