بہتر محسوس کر رہا ہوں: کاسترو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا کے ٹی وی پر جاری ایک بیان کے مطابق آپریشن کے بعد کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو کی حالت کافی اچھی ہوئی ہے۔ کیوبا کے رہنما نے کہا کہ وہ بالکل اچھا محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے پیرکو صحت یاب ہونے تک عارضی طور پر اپنے بھائی راول کو اقتدار سنوپ دی تھی۔ فیدل کاسترو اس مہینے اپنی عمر کے80 سال مکمل کرنے والے ہیں۔انہیں یہ کہتے بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتوں میں انکی کافی مصروفیات کا اثر انکی صحت پر پڑا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ وہ فی الحال گھر پر ہیں یا ہسپتال میں ۔ کاسترو نے کہا ’ ہر کسی کو کام اور لگاتار جد وجہد کرت رہنے کی ضرورت ہے۔ سن 1959 میں کمیونسٹ حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کاسترو نے خود کو حکومت کے کاموں سے الگ کیا ہے۔ ہوانا میں بی بی سی کے ایسٹیفن گریبس کا کہنا ہےکہ کیوبا کے بیشتر عوام فیدل کاسترو کو جلد صحت یاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ ان حالات پر لگاتار نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ میامی میں کیوبا سے ملک بدر کئے گئےلوگ جشن منا رہے ہیں۔ 75 سالہ راول کسترو وزیر دفاع ہیں اور لمبے عرصہ سے اپنے بڑے بھائی کے بعد اس عہدے کے دعویدار سمجھے جاتے ہیں۔ فیدل کاسترو دنیا کے ویسے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے لمبی مدت تک حکومت کی ہے۔ انکا دور امریکہ کے نو صدور کے برابر رہا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق ہوانا میں دکانیں اور دفاتر کھلے ہیں اور کسی طرح کے خصوصی حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں۔ کیوبا کے پارلیمان کے سپیکر رکارڈو الارکون نے کیوبا کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے رہنما کی اپیل پر متحد ہو جایں۔ ہوانا میں ہمارے نمائندہ کا کہنا ہے کہ جہاں کچھ لوگ اپنے رہنما کی بیماری پر اداس ہیں تو کچھ لوگوں کو امید ہے کہ اپ سیاسی تبدیلی ممکن ہے۔ | اسی بارے میں کیوبا میں مخالفین کے خلاف کارروائی19.03.2003 | صفحۂ اول کیوبا: انقلاب کے پچاس سال26.07.2003 | صفحۂ اول ’کیوبا کا دہشت گردی سے تعلق نہیں‘14.05.2002 | صفحۂ اول کیوبا پر لگی پابندیاں اٹھائیں: جمی کارٹر15.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||