عراقی صدر دمشق کا دورہ کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی صدر جلال طالبانی کئی سال کے بعد وہ پہلے اعلٰی عراقی رہنما ہیں جو شام کا دورہ کررہے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت پر کیا جا رہا ہے جب صدر بش نے شام اور ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ دونوں ممالک عراق میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ صدر بش نے حال ہی میں عراق کے لیے اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ شام نے عسکریت پسندوں کو عراق میں گھسنے کی اجازت دی ہے تاہم شام میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کررہے ہیں۔ عراق اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات 20 سال کے طویل عرصے کے بعد گزشتہ تومبر میں بحال ہوئے تھے۔ صدر طالبانی کا یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ شام اور امریکہ سے اپنے تعلقات میں ایک طرح کا توازن پیدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ شام وہ ملک ہے جسے امریکہ الگ تھلگ کرنا چاہتا ہے۔ ماضی میں عراق اور شام کے تعلقات زیادہ دوستانہ نہیں رہے ہیں۔ صدام دور میں جلال طالبانی ملک بدری کے بعد کافی عرصہ شام میں رہے ہیں۔ تاہم صدر طالبانی کے اس دورے کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ اس دوران امریکی اور عراقی حکومتوں کے ان خدشات پر کس حد تک بات چیت کی جائے گی کہ شام کی سرحد سے عسکریت پسند عراق میں داخل ہورہے ہیں۔ شام نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کررہا ہے۔ | اسی بارے میں عراق پالیسی: ’بش کا نیا نسخہ‘10 January, 2007 | آس پاس عراق میں مزید فوج کا اعلان آج متوقع 10 January, 2007 | آس پاس عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس بش کی نئی پالیسی پر عالمی ردعمل 11 January, 2007 | آس پاس ایرانی قونصلیٹ پرامریکی حملہ11 January, 2007 | آس پاس ’عراقی وزیر اعظم رعایتی وقت پرہیں‘11 January, 2007 | آس پاس ’ایران، شام کے اندر گھسنےکا اردہ نہیں‘13 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||