BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوا:مرنے والوں کی تعداد 5800
زلزلہ کے چوتھے روز بھی کئی لوگوں نےرات کھلے آسمان کے نیچے گزاری
انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں سنیچر کے روز آنے والے زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار آٹھ سو ہو چکی ہے۔

انڈونیشیا کی حکومت کے مطابق مرنے کی تعداد اب اٹھاون سو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لیے امداد پہنچنی شروع ہو چکی ہے لیکن ذرائع آمدورفت میں مشکلات کی وجہ سے ابھی بھی کئی متاثرہ لوگوں تک امداد نہیں پہنچ سکی ہے۔

عالمی امداد کے باوجود زلزلے کے چوتھے روز بھی کئی لوگوں نے رات کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امداد کی تعداد کافی معلوم ہوتی ہے تاہم اس کو متاثرین تک پہنچانا اب بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

یوگ کارتا میں اقوام متحدہ کے ایک اہلکار چارلز ہِگنز نے بتایا کہ سڑکوں پر ٹریفک کی بھیڑ کی وجہ سے اس عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

یوگ کارتا میں 20000 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور دو لاکھ سے زائد بےگھر ہوگئے تھے۔ یوگ کارتا کے جنوبی علاقوں میں جہاں گھنی آبادی ہے، عمارتیں بڑے پیمانے پر زمیں بوس ہوگئی تھیں۔

اقوام متحدہ نے یوگ کارتا ہوائی اڈے پر ایک رابطہ اور کوارڈنیشن سینٹر قائم کیا ہے اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے متاثرہ علاقوں تک خوراک پہنچانی شروع کر دی ہے۔

خوراک سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اس کے امدادی کارکنوں نے یوگ کارتا کے ضلعوں بانتول اور کلاٹین میں کھانے پینے کی اشیاء ٹرکوں کے ذریعے پہنچانی شروع کردی ہیں۔

بائیس ممالک نے زلزلے کے متاثرین کے لیئے امداد کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک میں جاپان، سعودی عرب اور برطانیہ نے کئئ ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا۔

پیر کو جنیوا میں اقوم متحدہ اور ریڈ کراس کے اہلکاروں کے ہنگامی اجلاس کے بعد اہلکاروں نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں فیلڈ ہسپتال کا قیاماور ٹینٹ، ادویات اور صاف پانی کی فراہمی ان کی اول ترجیحات میں شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ژاں ایگلینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ’ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زلزلے سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں اور علاقے میں طبی امداد کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے۔

جاوا میں زلزلے کے متاثرین نے تیسری شب بھی کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔ امدادی کارکن ابھی بھی زلزلے سے بچنے والوں کی تلاش میں عمارتوں کا ملبہ چھان رہے ہیں۔

ٹینٹ کی کمی
 اب مسئلہ یہ ہے ہمارے پاس ٹینٹ کی کمی ہے اور لوگ ابھی بھی سڑکوں پر اور کھلے آسمان تلے سورہے ہیں۔
مقامی اہلکار

زلزلے کے متاثرین کے لیے اتوار کے روز ہونے والی بارش کافی پریشان کن ثابت ہوئی اور بہت لوگوں کو اپنے گھروں کے ملبوں میں پناہ لینی پڑی۔

یوگ کارتا میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ وہاں حالات کافی برے ہیں اور زلزلے کے متاثرین ابھی بھی زخمی حالت میں ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔ تاہم امدادی ایجنسیاں فیلڈ ہسپتال قائم کررہی ہیں۔

اسی بارے میں:


زلزلہلوگوں کی کہانیاں
انڈونیشیا میں زلزلہ متاثرین پر کیا گزری؟
سونامی: چھ ماہ مکمل
سونامی سےمتاثرہ ممالک میں تقریبات کا انعقاد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد