شازیہ: غیر جانبدار کمیشن کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ڈاکٹر شازیہ خالد نے حکومت پاکستان سے اپنے مقدمے میں غیر جانبدار کمیشن مقرر کرنے کی اپیل کی ہے۔ نیویارک کی مشہور ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کے نویں فلور پر اخبار نویسوں سے ملاقات کے دوران ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا: ’ میں چاہتی ہوں کہ پاکستان کی حکومت ایک کمیشن بٹھائے جو آزاد اور غیر جانبدار ہو اور جس میں قومی اور کچھ بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکلاء بھی ہوں۔ جو غیر جانبدارنہ طریقے سے اپنی رپورٹ دے سکے‘۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی دعوت پر پہلی دفعہ امریکہ کا دورہ کرنے والی ڈاکٹر شازیہ حکومت پاکستان کے لیے بارہ تجاویز لے کر آئی ہیں جو وہ واشنگٹن میں ارکان کانگریس کو بھی پیش کریں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ انصاف کی تلاش میں ہیں اور امریکی حکومت سے درخواست کریں گی کہ وہ خواتین کی حالت بہتر بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالے۔ ڈاکٹر خالد کی تجاویز میں حدود آرڈیننس کے خاتمے کی درخواست کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہونا چاہیے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں انصاف فراہم کرنے کا وقت مقرر ہو۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے مقدمے میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے کردار کی غیر جانبدارانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پی پی ایل نے ان کے خلاف زیادتی کے تمام ثبوت جائے واردات سے غائب کر دیے تھے۔ ڈاکٹر شازیہ خالد نے ایک دفعہ پھر اپنا یہ الزام دہرایا کہ پاکستان کی حکومت نے دباؤ ڈال کر انہیں ملک سے باہر جانے پر مجبور کیا تھا۔ انہوں نے خصوصًا صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی مشیر اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کا نام لے کر کہا کہ پاکستان سے باہر جاتے وقت انہیں خاموش رہنے کو کہا گیا تھا اور وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں انصاف ملے گا لیکن ان کے مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس سلسلے میں حکومتی ٹریبونل اور ایک کپتان کی ڈی این اے ٹیسٹنگ پر انہوں نے عدم اطمینان ظاہر کیا۔ ’مجھے نہیں پتہ کہ کس کی ڈی این اے ٹیسٹنگ ہوئی۔ پی پی ایل والوں نے میرے ثبوت ہی ضائع کر دیے۔ جب کوئی ثبوت ہی نہیں تو کس حساب سے انہوں نے ڈی این اے کروائے‘۔ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیوں کیا گیا، اس سلسلے میں ڈاکٹر شازیہ کا خیال تھا کہ اس کی وجہ سیاسی تھی۔
بلوچستان میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر پھیلنے سے حکومت اور بلوچ قبائل کے درمیان مسلح تنازعات شروع ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر شازیہ خالد نے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ انہوں نے حکومت سے باہر جانے کی قیمت لی تھی۔ اخباری کانفرنس میں جب ایک صحافی نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا امریکہ میں اپنے مقدمے کا چرچا کر کے وہ پاکستان کی بدنامی نہیں کر رہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ملک سے باہر لوگ تب جاتے ہیں جب انہیں ملک کے اندر انصاف نہیں ملتا۔ ’میرے خیال میں ملک اسی دن بدنام ہو گیا تھا جس دن میرے ساتھ ایسی محفوظ جگہ زیادتی ہوئی جس جگہ پرندہ پر بھی مارے تو ڈی ایس جی گارڈز کو پتہ لگ جاتا ہے۔ ملک تب بدنام ہوتا ہے جب مظلوموں کو انصاف نہ دیں، اور پولیس اور عدلیہ غیر جانبدار نہ ہوں، اور جب خواتین کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہوتا ہے تب ملک کی بدنامی ہوتی ہے‘۔ ڈاکٹر خالد سوئی میں پی پی ایل کے ہسپتال میں ملازم تھیں۔ پچھلے سال جنوری میں پی پی ایل کے کمپاؤنڈ میں ان کے گھر میں انہیں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ میں ایک فوجی کپتان کا نام بھی لیا گیا۔ ڈاکٹر شازیہ خالد اپنے شوہر خالد امان اللہ کے ساتھ خواتین کے حقوق کی تنظیموں اکویلیٹی ناؤ اور انا کی دعوت پر امریکہ آئی ہیں۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹر شازیہ امریکہ کے دورے پر14 May, 2006 | پاکستان ڈاکٹر شازیہ خالد کوباہر کس نے بھیجا؟19 March, 2005 | پاکستان ڈاکٹر شازیہ بیرونِ ملک روانہ18 March, 2005 | پاکستان ’ڈاکٹر شازیہ بیرون ملک روانہ23 February, 2005 | پاکستان سوئی: ڈاکٹر شازیہ کا پہلا انٹرویو21 February, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||