ڈاکٹر شازیہ امریکہ کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنننے والی ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر خالد امان اللہ امریکہ کے دورے پر پہنچےہیں۔ یہ بات وسکانسن ریاست میں ایشین امریکن اگینسٹ ہیومن رائٹس ابیوزز ان پاکستان نامی تنظیم کی صدر ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ ڈاکٹر آمنہ بٹر نے بتایا کہ نیویارک میں عورتوں کے حقوق کی تنظیم ’اکیویلٹی ناؤ‘ کی طرف سے ڈاکٹر شازیہ خالد کے شوہر انجینئیر خالد امان اللہ کو ایک تقریب میں اعزاز دیا جارہا ہے جس میں شرکت کے لیے ڈاکثر شازیہ اور ان کے شوہر خالد امان نیویارک پہنچے ہیں۔ تنظیم ’ایکویلٹی ناؤ‘ یہ اعزاز بیویوں کےخلاف تشدد یا کٹھن حالات میں ان کا ساتھ دینے یا ان کے حقوق کےلیے کام کرنے والے مردوں کو دیتی ہے- یاد رہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مقام سوئی میں فوج کے اسپیشل سروسز گروپ یا ایس ایس جی کی کڑی نگرانی یا ہائی سکیورٹی میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ یا (پی پی ایل) کی کالونی میں واقع سرکاری رہائش گاہ میں ڈاکٹر شازیہ کومبینہ طور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان کے ساتھ زیادتی کرنے والے میں مبینہ طور پر ایک فوجی عملدار کا نام بھی گردش میں آیا تھا- بعد ازاں ان کے خاندان کی طرف سے ڈاکٹر شازیہ کو ’غیرت کے نام‘ یا نام نہاد 'کارو کاری‘ کا اعلان کیا گیا تو خالد امان اللہ اپنی اہلیہ ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ انصاف کے حصول کےلیے کھڑے ہوگئے تھے۔ پیر کے روز نیویارک میں ہونیوالی اس تقریب کے علاوہ ایکویلٹی ناؤ تنظیم پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی صورتحال پر ایک پریس کانفرنس بھی کرے گی اور خالد امان اللہ کے اعزاز میں دی جانے والی اس تقریب سے ’نیویارک ٹائمز‘ کے کالم نگار نوکلس کرسٹوف بھی خطاب کریں گے۔
نکولس کرسٹوف اپنے اخبار نیویارک ٹائمز میں پاکستان میں جنسی زیادتیوں کی شکار مختار مائی اور ڈاکٹر شازیہ پر مسلسل لکھتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر انجینئر خالد امان اللہ ایک سال کے زائد عرصے سے لندن میں جلاوطنی کی زندگي گزار رہے ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ اور خالد امان سنیچر کی شام لندن سے نیویارک پہنچے ہیں۔ توقع ہے کہ ڈاکٹر شازیہ سے کینیڈا سمیت شمالی امریکہ میں رہنے والے ان کے عزیز واقارب بھی ملاقات کریں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی ایک غیر سرکاری تنظيم کی طرف سے ان کے لیے قائم فنڈ کی رقم انہوں نے کراچی کے علاقے لیاری میں قائم کیے جانیوالے ایک ’کرآئيسز سینٹر‘ کو دے دی ہے جس کا مقصد پاکستان میں جنسی زیادتیوں اور دیگر تشدد کی شکار عورتوں کی مدد و معالجہ کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر خالد امان اللہ سترہ اور اٹھارہ مئی کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے جہاں ان کےلیے تنظیموں’وویمن ایج‘ اور ’انا‘ کی طرف سے پروگرامز ہوں گے۔ واشنگٹن میں یہ دونوں امریکی محکمہ خارجہ یا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے عملداروں سے بھی ملاقات کریں گے- یہ جوڑا بعد میں وسکانسن بھی جائےگا۔ اس سے قبل پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی عالمی علامت بننے والی
ایک سوال کے جواب میں ’انا‘ کی صدر ڈاکٹر آمنہ بٹر نے کہا کہ یہ پاکستان اور پاکستان سے باہر عورتوں اور انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والوں کےلیے نہایت ہی حوصلہ مند بات ہے کہ عورتوں کے حقوق کی یہ علمبردار خواتین امریکہ کا دورہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ایسے دوروں کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں اور بھی عورتوں اور مردوں نے ان سے رابطہ کیا ہے کہ وہ بھی عورتوں کے حقوق کی جدوجہد میں اپنی آواز شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر آمنہ نے اقوام متحدہ کی نو تشکیل شدہ انسانی حقوق کی کونسل میں پاکستان کے منتخب ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ عالمی تنظیموں کو انسانی حقوق کے معاملات میں دوہرے معیار نہیں رکھنے چاہیے۔ | اسی بارے میں سوئی: ڈاکٹر شازیہ کا پہلا انٹرویو21 February, 2005 | پاکستان ’ڈاکٹر شازیہ بیرون ملک روانہ23 February, 2005 | پاکستان شازیہ: قومی اسمبلی میں احتجاج23 February, 2005 | پاکستان ڈاکٹر شازیہ بیرونِ ملک روانہ18 March, 2005 | پاکستان ڈاکٹر شازیہ خالد کوباہر کس نے بھیجا؟19 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||