BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 April, 2006, 06:05 GMT 11:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جدید نیپالی تاریخ کی پہلی عوامی تحریک

مظاہرین
مظاہرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کی منزل شاہی محل ہے
گزشتہ دنوں کٹھمنڈو میں وزارتِ داخلہ کے درجنوں اعلٰی افسر اور اہلکار بحالیِ جمہوریت تحریک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے مگر نیپال کے لیئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔

سرکاری ملازمین سے لے کر ڈاکٹر اور ’سول سرونٹ‘ تک ہر شعبے کے لوگ اس تحریک میں شامل ہیں اور نیپال کی جدید تاریخ میں یہ اس نوعیت کی پہلی عوامی تحریک ہے۔

دارالحکومت کٹھمنڈو میں گزشتہ بدھ کی رات سے کرفیو نافذ ہے لیکن مظاہروں اور احتجاج میں روز بروز شدت آ تی جا رہی ہے۔ شہر کی سڑکوں پر لوگوں نے جگہ جگہ بڑے بڑے پتھر بکھیر دیے ہیں تاکہ فوجی گاڑیوں کی نقل وحرکت روکی جا سکے جبکہ کئی مقامات پر درختوں کی شاخوں سے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

صبح کچھ دیر کے لیے جب کرفیو ہٹتا ہے تو لوگ کھانے پینے کی چیزیں اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کے لیئے باہر نکلتے ہیں۔ اس وقت سارے شہر میں سب کچھ معمول کے مطابق لگتا ہے مگر جیسے ہی کرفیو کا وقت دوبارہ شروع ہوتا ہے بازاروں اور سڑکوں سے لوگوں کی بھیڑ غائب ہوجاتی ہے۔

چند ہی لمحوں میں فٹ پاتھوں پر، ہر چوراہے پر اور سڑکوں پر صرف فوج اور پولیس نظرآتی ہے اور ایسا لگنے لگتا ہے کہ جیسے اس شہر پر کسی غیر ملکی فوج نے قبضہ کر لیا ہو۔

دوپہر تک شہر کے ہر داخلی راستے سے مظاہرین شہر میں داخل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے اور ان میں خواتین بھی ہوتی ہیں اور بچے بھی۔ سب سے زیادہ تعداد نو عمر لڑکوں کی ہوتی ہے۔

یہ لوگ شہر کے نواحی دیہات سے آتے ہیں اور جیسے جیسے وہ شہرکی طرف بڑھتے ہیں ان کے ساتھ شہر کے جلوس بھی شامل ہوتے جا تے ہیں۔ ان کی قیادت مقامی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ سب سے آگے کی صفوں میں لوگ سیاسی اتحاد اور اپنی اپنی جماعتوں کا پرچم لیے ہوتے ہیں۔

شاہی محل کے گرد کئی قطاروں کا حفاظتی گھیرا ہے

شہر میں جگہ جگہ مقامی آبادی نے مظاہرین کے لیئے پینے کے پانی کا بندوبست کر رکھا ہے۔گرمی سے بچاؤ کے لیئے لوگ اپنی چھتوں سے مظاہرین پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں غرض کہ ہرکام بہت منظم اور پرامن طریقے سے انجام پاتا ہے۔

ادھر فوج نے شاہی محل کے گرد کئی قطاروں کا حفاظتی گھیرا بنا رکھا ہے۔ ان کے آگے مسلح پولیس تعینات ہے۔ جگہ جگہ بکتر بند گاڑیاں اور بھاری مشین گنیں نصب کی گئی ہیں۔

مظاہرین کو محل سے کافی دور روک دیا جاتا ہے۔ وہ نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں فائرنگ، لاٹھی چارج اور اشک آورگولوں سے پسپا کر دیا جاتا ہے اور ہر روز سینکڑوں جمہوریت حامی مظاہرین زخمی ہو رہے ہیں۔

دارالحکومت کے علا وہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں اور جیسے جیسے مظاہروں میں شدت آ رہی ہے ویسے ہی پولیس اور فوج کے تشدد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاسی جماعتوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول تک جمہوریت کی تحریک جاری رکھیں گی۔ عوام مکمل طور پر ان کے ساتھ ہیں اور مظاہرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کی منزل شاہی محل ہے اور وہ رفتہ رفتہ محل کے نزدیک پہنچتے جا رہے ہیں۔

بادشاہ نہیں، جمہور
کھٹمنڈومظاہرے: بی بی سی کےنامہ نگارنےدیکھا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد