نئے لیبر قوانین، فرانس میں مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں نئے لیبر قوانین کے خلاف ڈھائی لاکھ لوگوں نے ملک کے لگ بھگ 80 شہروں میں مظاہرے کیے ہیں جو کئی مقامات پر پرتشدد ثابت ہوئے۔ جمعرات کے روز دارالحکومت پیرس میں ایک مظاہرے پر پولیس نے آنسو گیس چھوڑے اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ پیرس میں ہونے والا مظاہرہ سب سے بڑا تھا جہاں منتظمین کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین اس نئے قانون کے خلاف آواز اٹھارہے تھے جس کے تحت چھبیس سال سے کم عمر کے ملازمین کو ملنے والے دو سالہ کنٹریکٹ بغیر وجہ بتائے ختم کیے جاسکتے ہیں۔ دارالحکومت پیرس کی معروف سوربون یونیورسٹی میں، جہاں انیس سو اڑسٹھ میں طالب علموں کے مظاہروں نے فرانس کو ہلاکر رکھ دیا تھا، ایک اخبار کے دکان اور کاروں کو آگ لگادی گئی۔ یونیورسٹی کے طالب علموں نے کئی جگہ پولیس پر پتھر اور بوتل پھینکے اور اپنے نعروں میں پولیس کے اہلکاروں کا ہٹلر کے دور میں نازی کارکنوں سے موازنہ کیا۔ پیرس میں دیر رات گئے مظاہرین پولیس سے لڑتے رہے۔ پیرس میں پولیس نے ڈیڑھ سو لوگوں کو حراست میں لیا ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں پچاس افراد حراست میں لیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں فرانس کی معیشت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے جس کی وجہ سے وہاں روزگار کے مواقع کم ہیں اور حکومتی رہنما معیشت میں بہتری لانے کے لیے مختلف پالیسیوں پر غور کرتے رہے ہیں۔ طالب علموں کو خدشہ ہے کہ ملازمت کے نئے دوسالہ کنٹریکٹ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک میں نوجوانوں کے لیے نوکری ملنی مشکل ہوجائے گی اور نوکریوں میں استحکام نہیں باقی رہے گا۔ | اسی بارے میں فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں کاریں نذر آتش، پچاس گرفتار05 November, 2005 | آس پاس فرانس میں کرفیو اور ایمرجنسی 08 November, 2005 | آس پاس تیس شہروں میں ایمرجنسی نافذ09 November, 2005 | آس پاس شیراک: تشدد کے خاتمے کا اعادہ10 November, 2005 | آس پاس فرانس: کرفیو کے بعد تشدد کم10 November, 2005 | آس پاس فرانس کی صورتِ حال اچانک خراب نہیں ہوئی13 November, 2005 | آس پاس احتجاج شہروں سے دور رکھنے کا عزم 14 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||