شیراک: تشدد کے خاتمے کا اعادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدر ژاک شیراک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دو ہفتے سے ان علاقوں میں جہاں تارکینِ وطن بڑی تعداد میں رہتے ہیں، جاری تشدد کو تیزی سے ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر کرفیو جیسے قوانین بنانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اب انہوں نے سکیورٹی اداروں کو ان اقدام کا اختیار دے دیا ہے جن کی انہیں ضرورت تھی۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ فرانس میں تمام شہری یکساں حقوق کا استحقاق رکھتے ہیں تو بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ عدم امتیاز کے تاثر کی تائید کر رہے ہیں۔ اس سے قبل پولیس کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ رات محض چند گاڑیوں کا نذرِ آتش کیا جانا ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں پانچ سو گاڑیاں جلائی گئی ہیں جو اتوار کی رات جلائی جانے والی چودہ سو کی تعداد میں مسلسل کمی ثابت کرتی ہیں۔ فرانس میں دو ہفتوں سے جاری یہ ہنگامے اس وقت پھوٹ پڑے تھے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو پندرہ اور سترہ سالہ نوجوان باؤنا تراؤرے اور زید بنا بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ دونوں نوجوان پولیس سے بچ کر بھاگ رہے تھے جبکہ حکام نے اس بات کی تردید کی ہے اور اس واقعے کی تفتیش کا اعلان کیا گیا ہے۔ جب کے ہنگامہ آرائی کرنے والے مطالبہ کر رہے کہ پولیس اس واقعے پر معافی مانگے۔ | اسی بارے میں فرانس: کرفیو کے بعد تشدد میں کمی10 November, 2005 | آس پاس تیس شہروں میں ایمرجنسی نافذ09 November, 2005 | آس پاس فرانسیسی معاشرے میں تبدیلی کااشارہ 08 November, 2005 | آس پاس فرانس میں کرفیو اور ایمرجنسی 08 November, 2005 | آس پاس فرانس میں کرفیو کا اعلان، تشدد جاری08 November, 2005 | آس پاس تشدد شدید: پیرس کے نواح میں کرفیو 07 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں گاڑیاں نذر آتش، تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||