فرانس: کرفیو کے بعد تشدد کم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں پچھلے دو ہفتوں سے جاری تشدد کے واقعات کے بعد تیس قصبوں اور شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ ملک کے جنوبی شہر تولوس میں کئی نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے علاوہ کئی دیگر علاقوں سے بھی ایسے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔ لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی رات سے تشدد کے واقعات میں کمی کا جو رجحان سامنے آیا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔ پیرس کے نواح میں جہاں سے تشدد کا آغاز ہوا تھا اب قدرے امن ہے۔ فرانس کے وزیر داخلہ نکولس سارکوزی نے تشدد کے واقعات میں ملوث تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے پارلیمینٹ کو بتایا کہ ان واقعات میں 120 غیر ملکی ملوث پائے گئے ہیں اور انہیں بنا کسی تاخیر کے ملک سے نکال دیا جائے گا۔ فرانس کے جن تیس قصبوں اور شہروں میں کرفیو لگایا گیا ہے وہاں سولہ برس سے کم عمر کا کوئی بھی نوجوان کسی بالغ ساتھی کے بغیر رات دس بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک باہر نہیں نکل سکتا اور نہ ہی پٹرول خرید سکتا ہے۔ تشدد کے ان واقعات کا آغاز پیرس کے نواح میں ایک غریب علاقے میں دو نوجوانوں کی حادثاتی ہلاکت کے بعد ہوا جن کا پولیس پیچھا کررہی تھی۔ | اسی بارے میں تشدد شدید: پیرس کے نواح میں کرفیو 07 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں گاڑیاں نذر آتش، تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس انتباہ کے باوجود ہنگامے جاری06 November, 2005 | آس پاس فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس فرانسیسی فسادیوں کو کڑی وارننگ05 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||