تیس شہروں میں ایمرجنسی نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کی حکومت نے پیرس سمیت تیس شہروں اور قصبوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کi احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ فرانس میں دو ہفتوں سے جاری فسادات میں اب تک سینکڑوں کاروں کو جلایا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا کہ فسادات کم ہو رہے ہیں اورگذشتہ رات کو چھ سو سترہ کارروں کو جلایا گیا جو اس سے پہلے والی رات جلائی جانے والی کاروں سے ایک سو کم ہے۔ دو ہفتے ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ فرانس کے شمالی شہر آمیاں میں پچھلی رات کو کرفیو نافذ کیا گیا تھا جبکہ دوسرے شہروں میں اب کرفیو نافذ کیا سکے گا۔ گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کے بعد لیوں شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا پورا نظام بند کر دیا گیا ہے۔ جن شہروں اور قصبوں میں مقامی حکام کو ہنگامی اختیارات دیئے گئے ہیں ان میں پیرس کے مضافات، سٹراسبور، لیل، نیس، مارسئی، روین، ٹولوز، آمیاں، ڈیژون، اور لی ہاور شامل ہیں۔ | اسی بارے میں فرانسیسی معاشرے میں تبدیلی کااشارہ 08 November, 2005 | آس پاس فرانس میں کرفیو کا اعلان، تشدد جاری08 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں کاریں نذر آتش، پچاس گرفتار05 November, 2005 | آس پاس فرانسیسی فسادیوں کو کڑی وارننگ05 November, 2005 | آس پاس فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس انتباہ کے باوجود ہنگامے جاری06 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں گاڑیاں نذر آتش، تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس تشدد شدید: پیرس کے نواح میں کرفیو 07 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||