سپن بولدک میں احتجاجی مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سے ملحقہ افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک میں سینکڑوں افغانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ پیر کے روز اس شہر میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں چوبیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق مظاہرین نے پاکستان ، القاعدہ اور طالبان مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ افغانستان کا شہر سسپن بولدک پاکستان کی سرحد کے قریب ہے اور افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے حملے میں ملوث خود کش بمبار اسی راستے سے افغانستان میں داخل ہوا تھا اور تربیت بھی پاکستان میں ہی حاصل کی تھی۔ افغاستان کی طرف سے اس طرح کے الزام پہلے بھی لگائے جاتے رہے ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ ان کی تردید کی ہے۔ پیر کو کشتی کے ایک مقابلے کے دوران کیے گئے اس حملے میں بیس افغان شہریوں کی ہلاکت کے بعد سپن بولدک میں خاصہ غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جنوبی افغانستان میں خودکش حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن ان میں نشانہ ہمیشہ غیر ملکی افواج یا سرکاری اہلکاروں کو بنایا گیا۔ یہ حملہ غیر معمولی اس لیے تھا کہ پہلی مرتبہ عام شہری اس کا نشانہ بنے۔ افغانستان کے صدر نے افغان دشمن عناصر کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں انہوں نے کہا تھا کہ چار ماہ پہلے انہیں اس بات کی خبر ملی تھی کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حود کش بمباروں کو تربیت دی جا رہی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ تشدد کی یہ وارداتیں کسی شورش کا پیش خیمہ ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||