دمام میں محصور عمارت پر یلغار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں سکیورٹی فورسز نے اُس عمارت پر ہلہ بول دیا ہے جس میں گزشتہ تین دنوں سے شدت پسند محصور تھے۔ اس عمارت میں چھپے مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز میں گزشتہ تین دن سے زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا جس میں آخری اطلاعات آنے تک پانچ شدت پسند اور تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ عینی شاہدوں کے مطابق سکیورٹی فورسز کے عمارت میں داخل ہونے کے بعد فائرنگ کی آوازیں آنا بند ہو گئیں۔ اس علاقے میں ایمبولینسوں اور شہری دفاع کی گاڑیوں کو جاتے دیکھا گیا۔ سعودی حکام نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اب اس پورے علاقے کی تلاشی لے رہی ہیں۔ اس علاقے کے مکینوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سکیورٹی فورسز کی عمارت پر یلغار کے دوران کوئی شدت پسند یا سکیورٹی اہلکار ہلاک تو نہیں ہوا۔ دریں اثناء امریکی حکومت نے دہران میں اپنا قونصل خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قونصل خانے کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دمام میں جاری مسلح جھڑپ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو ان کے بقول القاعدہ تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ دمام سعودی عرب کے مشرقی حصے کا وہ علاقہ ہے جہاں تیل کے ذخائر بالکثرت ہیں۔ اس سے پہلے بھی سعودی عرب متعدد افراد شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی سکیورٹی اہلکاروں اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان اپریل میں بھی اس سال ایک جھڑپ ہوئی تھی جو دو دن جاری رہی تھی اور اس میں سات مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے جب کہ چالیس کے قریب سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ سعودی حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ مبینہ اسلامی شدت پسند برسرِ اقتدار سعودی خاندان کا تختہ الٹنے اور تمام غیر ملکیوں کو سعودی عرب سے نکالنا چاہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||