سومزاحمت کاروں کی ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی اورمشرقی افغانستان میں تین ہفتوں سےجاری آپریشن کےدوران مختلف چھاپوں میں سو سے زائد مشتبہ مزاحمت کار کو قتل کیا جا چکا ہے۔ کنٹرصوبے میں جاری آپریشن میں چالیس سے زائد مشتبہ مزاحمت کار قتل کر دیےگئےجہاں جون میں امریکہ کے انیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبہ زابل میں مزاحمت کے دوران پینسٹھ مزاحمت کاروں کو ہلاک کیا گیا۔ اگلے ماہ ملک میں ہونے والے انتخابات سے قبل طالبان کی جانب سے حملوں میں شدت آگئی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں پچاس امریکی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق صوبہ کنٹر میں انتخابات سے قبل ’آپریشن وہیلر‘ کے نام سے شروع کیا گیا تھا تاکہ ان انتخابات سے قبل صورت حال کو بہتر بنایا جاسکے۔ امریکی فوج کے لیفٹینٹ کرنل جیری او ہیرا کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ انتیس آپریشنوں میں چالیس کو ہلاک کیا گیا جبکہ دوسرے ہزاروں زخمی ہوئے۔ اگلےچند ہفتوں میں افغانستان کےلوگ نئی قومی اسمبلی کے لیے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اتوار کو طالبان کے ترجمان مفتی لطیف اللہ نے کہا تھا کہ طالبان مزاحمت کاروں کی جانب سے بم حملے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک دوسرے بم حملے میں کابل کے قریب امریکی سفارت خانے کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ طالبان نےاس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ افغانستان میں امریکہ کےاس وقت بیس ہزار فوجی موجود ہیں۔ مختلف حملوں میں اب تک دوسو سے زائد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||