افغانستان:انتخابی مہم شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں پہلے پارلیمانی انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی 249 نشستوں کے لیے 2800 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں۔ پچیس فیصد سے زائد نشستیں خواتین کے لیے جبکہ دس نشستیں خانہ بدوشوں کے لیے مختص ہیں۔ انتخابات کی خبر کے ساتھ ساتھ افغانستان میں پُرتشدد واقعات بڑھ گئے ہیں جن کا الزام طالبان کے حمایتی عناصر اور القاعدہ پر لگایا جا رہا ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا خیال ہے کہ پارلیمانی انتخابات اس بات کا امتحان ہیں کہ عشروں کی خانہ جنگی اور عبوری دور کے خاتمے پر افغانستان میں ایک پارلیمانی حکومت قائم ہو سکتی ہے یا نہیں۔ پورے ملک میں دیواروں پر انتخابی پوسٹر چسپاں ہیں تاہم افغانستان جیسے دیہی ملک میں انتخابی مہم کے اصل مرکز قبائلی عمائدین کی ملاقاتیں اور مساجد میں جمعے کے اجتماعات ہوں گے۔ انتخابات کے انعقاد میں اصل مسئلہ انتخابی مودا کا ملک کے دور دراز پولنگ سٹیشنوں پر پہنچانا ہے۔ اس مقصد کے لیے بھاری تعداد میں گدھے استعمال کیے جائیں گے جبکہ پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا جائے گا۔ چند انتخابی امیدوار سیاسی پارٹیوں کے تحت حصہ لے رہے ہیں لیکن ہمارے نامہ نگار کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو خدشہ ہے کہ افغانستان کے پرانے دھڑوں کے امیدوار اپنے پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر کامیاب ہو جائیں گے۔ طالبان حکومت کی باقیات اور القاعدہ کی جانب سےگڑ بڑ کرنے کی دھمکیوں کی روشنی میں انتخابات کے انعقاد میں سب سے اہم مسئلہ سیکورٹی کا ہے۔ واضح رہے کہ طالبان کے حامی گروپوں اور القاعدہ کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کہ دوران امریکی فوجوں اور کرزئی حکومت کے حمایت یافتہ مذہبی رہنماؤں پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔ اگرچہ انتخابای مراکز پر سیکورٹی کا انتظام افغان پولیس اور ملک کی افواج کے ہاتھ میں ہوگا تاہم انتخابات کے پر امن انعقاد کے لیے تیس ہزار سے زائد امریکی اور نیٹو کے فوجی بھی دستیاب ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||