کرزئی سے عدالتیں بنانے کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں قائم گروپ ہیومن رائٹس واچ نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی پر زور دیا ہے کہ ان افراد پر مقدمے چلانے کے لیے عدالتیں قائم کریں جن پر انیس سو نوے کی دہائی میں جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ میں جنگی جرائم کے الزامات کے سلسلے میں متعدد اشخاص کے نام دیۓ گئے ہیں جن میں ملیشیا کے کمانڈر عبد الرشید دوستم کا نام بھی ہے جو آجکل اعلیٰ فوجی عہدے پر فائز ہیں۔ صدر کرزئی کے ایک مشیر عبدالرب الرشید سیاف کا نام بھی رپورٹ میں لیا گیا ہے۔ پروفیسر سیاف صدر کرزئی کی مشاورت بھی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انیس سو بانوے میں سویت قبضے کے خاتمے کے بعد کابل میں مجاہدین کے متحارب گروہوں میں خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور آبادی پر مظالم ڈھائے گئے لیکن ان جرائم کے کسی بھی ذمہ دار کو آج تک کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ ہیومین رائٹس واچ نے یہ تفصیلی رپورٹ دو برس کی عرق ریزی کے بعد تیار کی ہے۔ صدر حامد کرزئی ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ افغاسان میں احتساب کا سلسلہ شروع ہوگا لیکن اس بارے میں تاحال کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ہیومین رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ٹال مٹول کی یہ صورتحال جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو بخش دینے کے برابر ہے۔تاہم صدر کرزئی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کے بارے میں تبصرے سے قبل اسکا بغور مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ان الزامات کو ملک کے استحکام کی خاطر نظر انداز کیا جارہا ہے، خاص طور سے ستمبر کے پارلیمانی انتخابات کی وجہ سے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||