لیڈز کا بیورلی ہلز اور آکسفورڈ سرکس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں گزشتہ منگل کو رات گئے شمالی انگلستان کے شہر لیڈز پہنچا تھا۔ مقصد ظاہر ہے کہ بی بی سی کے سامعین اور قارئین کو لندن کے بم دھماکوں کے تناظر میں لیڈز شہر میں رونما ہونے والے واقعات سے باخبر کرنا تھا۔ لیڈز پہنچتے ہیں میں بیسٹن کے اس علاقے میں پہنچ گیا جہاں پولیس نے تین مبینہ حملہ آوروں کے گھروں اور آس پاس کے علاقے کی ناکہ بندی کی ہوئی تھی اور بہت سے لوگوں کو وہاں سے منتقل بھی کیا جا چکا تھا۔ بیسٹن میں ایک مبینہ حملہ آور شہزاد تنویر کے گھر کے نزدیک میں نصف شب کے بھی خاصی دیر کے بعد پہنچا لیکن اس وقت بھی وہاں کوئی آدھے درجن سے زیادہ صحافی اور براڈکاسٹنگ میں استعمال ہونے والی دو گاڑ یاں موجود تھیں۔ رات میں اس وقت وہاں میں اور میرے ہم پیشہ تھے یا پھر ناکہ بندی کے دوران پہرے پر معمور پولیس اہلکار۔ خیر رات میں تو میں کچھ دیر گزار کر واپس آگیا اور علی الصبح اس وقت سوگیا جب دنیا بھر کے جاگنے کا وقت نزدیک آگیا تھا۔ دوپہر میں جب میں دوبارہ بیسٹن اور ہولبیک کے علاقوں میں گیا اور اگلے چھتیس گھنٹوں کے دوران بار بار گیا تو مجھے بلا مبالغہ علاقے کے مکینوں سے ہمدردی سی محسوس ہونے لگی۔ اور یہ اس ہمدردی کے علاوہ تھی جو ان لوگوں کے حالات کے جبر کا شکار ہونے پر ان سے کی جا سکتی ہے۔ بیسٹن اور اس کے آس پاس کے وہ محلے اور چند گلیاں جن کی پولیس نے تفتیش کی خاطر ناکہ بندی کی ہوئی ہے ، کوئی بہت بڑا علاقہ نہیں اور قریب قریب ڈھائی سو سے تین سو کے لگ بھگ صحافیوں ، کیمرہ مینوں، پروڈیوسروں، براڈکاسٹ انجینئیروں اور دیگر تکنیکی عملے اور ان کی گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے تو بالکل ہی بڑا علاقہ نہیں ہے۔ چند گھنٹے پیشتر نچلے متوسط اور غریب طبقے کا غیرمعروف علاقہ کیمروں کے لینس اور مائیکرو فون کے تاروں سے گزرتا ہوا راتوں رات ہالی ووڈ کی بیورلی ہلز اور لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ کی مانند چہار دانگ مشہور ہوگیا تھا۔
گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے اور بڑی بڑی اہم شخصیات سے مل چکے صحافیوں کے لیے ان محلوں کے مکین اچانک وی وی آئی پی کا درجہ حاصل کرچکے تھے کہ کیمرہ اور مائیکروفون تھامے ہر شخص ان عام اور کل تک ناقابل توجہ لوگوں سے بات کرنے دوڑا جارہا ہے۔ بیسٹن میں خوش آمدید۔ یہ ہے ساؤنڈ بائیٹ اور وڈیو کلپ جرنلزم، اور میں بھی اس میں شامل ہوں۔ لیکن یہ بھیڑچال چلتے ہوئے بھی میں اس کو بھیڑچال نہیں کہتا۔ میں لوگوں تک حالات۔ آنکھوں دیکھے ، کانوں سنے حالات ۔۔۔پہنچانے کا مکلف ہوں۔ میں خبرنگار ہوں۔ ایک خاتون اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھی ہیں۔ ایشیائی نژاد اور عمر رسیدہ۔ خاموش ہیں اور چھالیہ چباتے ہوئے پولیس کی ناکہ بندی اور صحافیوں کی سرگرمی دیکھ رہی ہیں۔ ان کے سامنے ایک بڑا سا کتا بیٹھا ہے۔ اچانک ایک بڑے غیرملکی نشریاتی ادارے کا ایک نامہ نگار کیمرے کے سامنے رپورٹ ریکارڈ کراتا آگے بڑھتا ہے اور خاتون سے گفتگو کی کوشش کرتا ہے۔ جواب محض خاموشی ہے۔ نہ ہاں نہ ناں۔ نامہ نگار میری شکل وصورت سے اندازہ لگاتا ہے کہ شائد میں ان خاتون کی زبان میں کچھ بات کرکے اس کی مدد کرسکوں۔ میرے سلام کا جواب سلام میں ملتا ہے اور دہلیز تک آنے کی اجازت کے جواب میں خاتون کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہیں کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔ جس گلی کی ناکہ بندی ہے، اس کے پیچھے کی ایک گلی سے ایک نوجوان باہر نکلتا ہے۔ کوئی نصف درجن نامہ نگار اپنے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اس کی طرف لپکتے ہیں اور اس پر سوالوں کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔ کیا آپ شہزاد تنویر یا صدیق خان کو جانتے تھے؟ کیا وہ آپ کے دوست تھے؟ کیا آپ نے کبھی ان کو کسی مشکوک سرگرمی میں ملوث دیکھا تھا؟ اگر آپ انگریزی نہیں بول سکتے تو ہم کسی اردو یا پنجابی بولنے والے کو ڈھونڈیں؟ یہ اور انہی جیسے بہت سے سوال۔۔۔اور جواب ۔۔۔ جواب دیا اس نوجوان کے گھر کے دروازے سے جھانکنے والے سات آٹھ برس کے ایک لڑکے نے یورکشائر کے مخصوص انگریزی لہجے میں۔ ’ یہ گونگا اور بہرا ہے۔
عرب نژاد لیلا حیدر بھی اسی گلی میں رہتی ہیں۔ وہ اپنی کسی ضرورت سے اپنے چھوٹے سے بیٹے کے ساتھ گھر سے نکلی ہیں۔ سوالات بے شمار اور جواب دینے والی اکیلی بے چاری لیلا حیدر۔ ان کے بیٹے نے تو اچانک اس یلغار اور بڑے بڑے کیمروں اور مائیکروفونوں سے ڈر کر رونا بھی شروع کردیا۔ اب وہ سوالوں کا جواب دیں یا لخت جگر کی فریاد کا۔ سرخ رنگ کی گاڑی میں سوار دو ایشیائی نژاد نوجوان کافی دیر سے زناٹے دار انگریزی میں دو صحافیوں سے گفتگو میں مصروف ہیں۔ موضوع یہ ہے کہ وہ رہتے تو یہیں ہیں لیکن محلے کے بارے میں اول تو ان کی معلومات بالکل صفر ہیں اور اگر وہ کچھ جانتے بھی ہیں تو ان کی انگریزی کا دامن بیان سے قاصر ہے۔ مطلب تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ لیکن ٹھہریے۔ ابھی ہماری زنبیل میں بھی ایک ہنر باقی ہے۔ ’بھائی صاحب ! اگر انگریزی نہیں تو اردو میں تو آپ انٹرویو دے ہی سکتے ہیں۔ کیا میں فلیش مین (میرا ریکارڈر) آن کروں۔ انگریزی میں جواب ملا ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انگریزی کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں انٹرویو ریکارڈ کرانے والے ایک صاحب کا کہنا یہ تھا کہ چونکہ وہ اردو بہت زیادہ نہیں بولتے، اس لیے گفتگو سے قاصر ہیں اور بدقسمتی سے بی بی سی کی کوئی پنچابی سروس ہے نہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ شہزاد تنویر ایک مشتبہ حملہ آور تھا۔ اس کے اور دیگر مبینہ حملہ آوروں کے اہل خانہ تو پولیس کی نگرانی میں حفاظت کے نقطۂ نظر سے کسی نامعلوم مقام پر ہیں۔ لیکن شہزاد تنویر کے ایک ماموں بشیر احمد اب بھی کولون روڈ کے برابر والی سڑک پر اپنے گھر میں مقیم ہیں۔ بلکہ مقیم بھی کیا ہیں ، کہیے کہ محصور ہیں۔ پہلے روز ایک دو ٹی وی چینلوں سے بات کیا کرلی، باقی سارے صحافی تو اب کی گھات میں ہی لگے ہوئے ہیں۔ ویسے ابھی گزشتہ روز ہی (جمعرات) بشیر احمد صاحب نے بڑی مشکل سے بیس منٹ کی جدوجہد کے بعد لندن سے فون پر گفتگو کرنے والی میری ساتھی عائشہ تنظیم کو یہ بات سمجھائی ہے کہ ان کے پاس انٹرویو کے دو تین منٹ بھی نہیں ہیں۔
بدھ کو مغرب کے فوراً بعد دھندلکے کا وقت ہے۔ لندن کے ایک مشہور ٹیبولائڈ اخبار کا رپورٹر محلے کے ایک ادھیڑ عمر صاحب کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ اگر وہ صاحب کسی طرح شہزاد تنویر یا صدیق خان کی کوئی تصویر اسے لادیں تو اس کا اخبار سات ہزار پاؤنڈ کی حقیر رقم نذرانے کے طور پر ان کو پیش کرسکتا ہے۔ اب مجھے یہ نہیں پتہ کہ جمعرات کے اخبارات میں چھپنے والی تصاویر اسی نذر و نذرانے کا شاخسانہ ہیں یا کسی اور کا دل صحافیوں کی محنت شاقہ ، حالت زار اور بے قدری پر پسیجا تھا۔ جمعرات کی شام میں پولیس کی ناکہ بندی کے قریب ہی واقع ایک گھر کے سامنے بیٹھا ہوں۔ اس طرح کہ میرے ریکارڈر اور کیمرے کا بیگ میرے دائیں جانب رکھا ہے لیکن اگر کوئی بائیں جانب سے دیکھے تو یہ بیگ میرے جسم کی اوٹ میں دکھائی نہیں دے گا۔ ارے! یہ تو کوئی نیا آنے والا صحافی اور کیمرہ مین لگتا ہے۔ لیجیے وہ تو میرے پاس ہی چلے آرہے ہیں۔ انہیں شائد خدشہ ہے کہ اور بہت سارے لوگوں کی مانند میں بھی کہیں بھاگ ہی نہ جاؤں اس لیے جانے پہچانے سوالات دو چار قدم دور سے ہی شروع ہوگئے۔ لیکن میں تو ان کا ہی بھائی بند ہوں۔ لیجیے یہ بات انہیں بھی معلوم ہوگئی کہ انہوں نے مجھ تک پہنچ کر ریکارڈر اور کیمرے کا میرا بیگ بھی دیکھ ہی لیا۔ ’معذرت جناب! ہم سمجھے آپ یہیں رہنے والے ہیں۔ لیکن میرے نصیب ایسے کہاں اور پھر مجھے تو آج لندن واپس جانا ہے۔ اس لیے میں ان نوواردوں سے رخصت ہورہا ہوں۔ خدا حافظ لیڈز۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||