چینی سیلاب 92 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے ایک پرائمری اسکول میں سیلاب سےمرنے والوں کی تعداد 92 ہو گئی ہے اور درجن بھر سے زائد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 88 بچے شامل ہیں جو سیلاب کے وقت اپنی کلاس روم میں پھنس گئے تھے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق شالان کے مقامی افسران اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ایک علیحدہ واقعہ میں گونگ ڈان میں ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 31 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ .شالانگ میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ افسران کم ازکم 15 لاپتہ افراد کا پتہ لگا رہے ہیں جن میں 13 بچے ہیں۔ یہ سیلاب اچانک اور زبردست ہونے والی بارش کے سبب آیا۔ ایسی شکایتیں بھی سننے میں آئیں کہ شالان کا یہ گاؤں اور اسکول بہت نچلے علاقے میں بنایا گیا تھا جہاں سیلاب کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ اس واقعہ پر شدید احتجاج اور غم و عضِے کا اظہار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں مدد کی ان کی اپیلوں کو نظر انداز کیا گیا ۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں سے ایک جائی ییبو کے والد نے چینی روز نامہ کو بتایا کہ وہ جب دہ اسکول پہنچے تو کمر تک اونچا پانی تھا اور اس میں 40 بچوں کی لاشیں تیر رہی تھیں۔ جیا نے کہا’میرے بچے کی لاش ایک ڈیسک پر پڑی ہوئی تھی جو پانی کی سطح سے زرا اونچا تھا اس کی ناک کان اور منھ میں مٹی اور کوڑا کرکٹ بھرا ہوا تھاجب میں نے اسے چھو کر دیکھا تو وہ مر چکاتھا‘۔ اخبار کے مطابق شالان کی کمیونسٹ پارٹی اور پولیس چیف کے خلاف غفلت برتنے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ان پر مدد کی فوری اپیلوں پر حرکت میں نہ آنے اور امدادی کارروائی میں تاخیر کے الزام ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہوٹل میں آگ لگنے کے واقعہ کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ چین کے سرکاری اخبار کے مطابق آگ لگنے کے 35 منٹ بعد بھی فائر برگییڈ کو نہیں بلایا گیا۔کیونکہ ہوٹل کے عملے کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہاں رہنے والے لوگوں اور فائر بریگیڈ کو کیسے مطلع کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||