چین میں فحاشی پر عمر قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں کمپیوٹر ویب سائٹ اور موبائل فون پر فحش تصاویر مہیا کرنے والوں کو عمر قید کی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمپیوٹر اور موبائل فون پر بڑھتی ہوئی فحاشی کو روکنے کے لیے چین کی سپریم پیپلز کورٹ اور چین کے سینئر پروسیکیوٹر کے دفاتر سے جاری ہونے والے نئے قوانین کے تحت فحاشی پھیلانے والے عناصر کو عمر کی سزا سنائی جا سکے گی۔ پولیس حکام نے چین کے سرکاری خبررساں ادارے کو بتایا کہ عمر قید کی سزا کمپیوٹر پر فحش ویب سائٹس بنانے والے کسی بھی شخص کو دی جاسکے گی جس ویب سائٹ پر زیادہ کلک کئے جاتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر کسی فحش ویب سائٹ پر اگر ڈھائی لاکھ سے زائدافراد کلک کرتے ہیں تو اس ویب سائٹ بنانے والے کو عمر کی سزا سنائی جا سکے گی۔ اس سال جولائی میں فحش ویب سائٹ کے خلاف شروع کی جانے والی مہم میں اب تک سینکڑوں کی تعداد میں ویب سائٹس کو بند کیا جاچکا ہے اور تین سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق فحش ویب سائٹس کے خلاف بنائے جانے والے یہ قوانین کمیونسٹ مخالف اور سیاسی مخالفین کی ویب سائٹس کے خلاف قوانین کے ساتھ ساتھ استعمال کئے جا سکیں گے۔ نئے قوانین کو ملک کے تمام اخبارت میں وسیع پیمانے پر مشتہر کیا گیا ہے۔ چین میں ایک اعدادو شمار کے مطابق آٹھ کروڑ ستر لاکھ افراد انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں سے آدھے چوبیس سال سے کم عمر نوجوان ہیں۔ اے ایف پی نے مزید کہا ہے کہ چینی حکومت نے غیر ملکی فحش ویب سائٹس کے خلاف ’گریٹ فائر وال آف چائنا کے ‘ نام سے ایک احتیاطی فائر وال بنائی ہے لیکن یہ فائر وال ان ویب سائٹس تک رسائی کو روکنے میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||