امریکی سائندانوں نے جینیٹک انجنیرنگ کے ذریعے ایسے چوہے تیار کیے ہیں جو عام چوہوں کے مقابلے میں دوگنے فاصلے تک دوڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تجربہ ایسی ادویات کی تیاری میں یا جینیاتی علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا جس سے ایتھلیٹوں کی کارکردگی بہتر کی جا سکے گی۔ اس چوہے کا نام اولمپک مقابلوں کی سب سے لمبی دوڑ کے نام پر میراتھون چوہا رکھا گیا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق اس طرح کے تجربات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ہم جلد ہی اس زمانے میں داخل ہونے والے ہیں جب ایتھلیٹ مصنوعی طریقے سے اپنے جنین کی صلاحیت میں اضافہ کے ذریعے اپنی کارکردگی بہتر کریں گے۔ |