اب انسپکٹر لبنان جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کا ادارہ انسپکٹروں کی ایک ٹیم لبنان بھیج رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا شام نے وہاں سے اپنی تمام تر فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو واپس بلا لیا ہے یا نہیں۔ یہ فیصلہ امریکہ کی شکایات پر کیا گیا ہے جس نے کہا تھا کہ اپریل میں لبنان سے شامی فوج کے انخلاء کے بعد بھی شام لبنان میں ’مداخلت‘ کر رہا ہے۔ تاہم شام نے ان امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وقتِ مقررہ پر شام کی تمام فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو لبنان سے واپس بلا لیا گیا تھا۔ شام کی فوج لبنان میں لگ بھگ تیس برس تک رہی ہے لیکن بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اب وہاں سے نکل رہی ہے۔ اس سے قبل صدر بش نے یہ کہتے ہوئے شام پر شک کا اظہار کیا تھا کہ جب تک لبنان سے اس کے خفیہ اداروں کے تمام اہلکار نکل نہیں جاتے، لبنان ایک آزاد ملک نہیں کہلا سکتا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اقوامِ متحدہ کے اس فیصلے کی بھی حمایت کی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ صورتِ حال کو دیکھنے کے لیے لبنان ایک ٹیم روانہ کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ اپریل سے اب تک شام نے سلامتی کونسل کی قرارداد اور عالمی مطالبے کی پوری طرح شنوائی نہیں کی جس کے مطابق شام کو لبنان سے اپنی فوج نکالنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق شام کے خفیہ اداروں کے اہلکار لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اس ہفتے کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ شام کے خفیہ اہلکاروں کے کچھ عناصر ابھی تک لبنان میں ہیں۔ شام کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد کے لیے نگران ادارے کے خصوصی ایلچی اگلے چند روز میں شام میں صدر بشرالاسد سے ملاقات کریں گے۔ لبنان میں حزبِ اختلاف کے کئی رہنما اور لبنان کے اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ سابق وزیرِ اعظم رفیق الحریری کے قتل کا ذمہ دار شام ہے لیکن شام اس الزام کو مسترد کرتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||