شام کے نائب صدر مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام میں طویل ترین عرصے تک حکومت میں رہنے والے رہنماؤں میں شامل نائب صدر عبدالحلیم خدام نے اپنے عہدے اور حکمراں بعث پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں خدام لبنان کے لیے شام کی پالیسی کے ذمہ دار تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خدام نے استعفیٰ کیوں دیا ہے۔ آج کل بعث پارٹی معاشی اور سیاسی اصلاحات پر بحث میں مصروف ہے اور خیال ہے کہ شام میں حریف سیاسی جماعتوں کو قیام کی اجازت مل جائے گی۔ خطے میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں عبدالحلیم خدام کا اثر رسوخ رفتہ رفتہ کم ہو رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنا عہدہ اور البعث پارٹی کی رکنیت سے الگ ہونے کا اعلان حکمراں جماعت کی کانگریس کے اجلاس کے دوران کیا۔ تاہم ابھی تک اس کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی اور نہ یہ معلوم ہوا ہے کہ آیا بعث پارٹی نے خدام کا استعفیٰ منظور کیا ہے یا نہیں۔ اس سال کے آغاز پر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے شام نے لبنان سے اپنی فوج کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فوج انیس سو پچھہتر سے انیس سو نوے کی خانہ جنگی کے دوران لبنان میں موجود تھی۔ خدام انیس سو بتیس میں پیدا ہوئے تھے اور انہیں شام کا سب سے پرانا لیڈر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے موجود صدر کے والد حافظ الاسد کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ انیس سو اسی میں نائب صدر بنائے جانے سے قبل وہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||