BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 March, 2005, 05:29 GMT 10:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شام کی مکمل واپسی چاہیے‘
جارج بُش اور ولادیمیر پیوتن
روس بھی لبنان سے شام کی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہے
امریکہ کے صدر جارج بُش نے شام سے کہا ہے کہ وہ مئی تک لبنان سے مکمل طور پر اپنی فوجیں واپس بلا لے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب ہم فوجوں کی واپسی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے مکمل واپسی‘۔

اطلاعات کے مطابق شام کے صدر بشرالاسد سنیچر کے روز لبنان سے کچھ فوجی دستوں کی واپسی اور کچھ کی لبنان میں از سر نو تعیناتی کا اعلان کرنے والے ہیں۔

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد سے شام پر پرلبنان سے فوجوں کی واپسی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لبنان میں حزب اختلاف نے چودہ فروری کو ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری شام پر عائد کی ہے لیکن شام اس الزام کی سختی سے تردید کر چکا ہے۔

صدر بُش نے نیو یارک پوسٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ شام کو مئی میں لبنان میں انتخابات سے قبل فوجیں واپس بلا لینی چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے ذہن میں اس وقت سب سے زیادہ اہم موضوع شام کو لبنان سے نکالنا ہے اور میرا مطلب لبنان سے صرف شام کی فوجوں کی واپسی نہیں بلکہ ان سب کی واپسی ہے جن میں خاص طور پر شام کی خفیہ سروس کا لبنان سے نکلنا بھی شامل ہے‘۔

امریکہ کی طرف سے شام کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے امکان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر بُش نے کہا کہ ’میرا آخری حربہ فوج کا استعمال ہوگا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد