عباس تاریخی بات چیت کےلیےتیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما محمود عباس جارج بش سے تاریخی مذاکرات کرنے والے ہیں اور انہیں امید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے نقشۂ راہ کو منظوری مل جائے گی۔ محمود عباس پہلے فلسطینی رہنما ہیں جن کا موجودہ صدر وہائٹ ہاؤس میں خیر مقدم کریں گے۔ مسٹر عباس نے کہا ’اقتصادی حمایت حاصل کرنے اورنقشۂ راہ کو نافذ کرنے کے لئے ہمیں ایک واضح سیاسی موقف کی ضرورت ہے‘۔ بدھ کو انہوں نے امریکی کانگریس کے اراکان سے کہا کہ 17 جولائی کے پارلیمانی انتخابات میں تاخیر کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مسٹر عباس کے اہم انتخابی حریف شدت پسند گروپ حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر انتخابات میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے لئے حمایت حاصل کر سکیں۔ خیال ہے کہ صدر بش آج فلسطین کے لئے کروڑوں ڈالر کی براہِ راست امداد کا اعلان کرسکتے ہیں۔ مشرقِ وسطٰی امن منصوبے کو امریکہ، یورپین یونین، روس اور اقوامِ متحدہ کی حمایت تو حاصل ہے تا ہم پچھلے دو برسوں میں اس پر زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ امن منصوبہ دو سال میں تنازعہ ختم کرنے کا ایک مرحلہ وارنقشۂ راہ ہے جس کا مقصد ایک پائیدار فلسطینی ریاست اور محفوظ اسرائیل کو ممکن بنانا ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی سے طے شدہ یکطرفہ انخلاًء کو امن کے نقشۂ راہ میں شامل کرنے پر انکی حمایت کرے۔ مسٹر عباس کا یہ دورہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یاسر عرفات کی موت کے بعد امریکہ اور فلسطین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ امریکہ نے مسٹر عباس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے فلسطینی شدت پسندوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی انہیں اور بھی بہت کچھ کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||